پشاور — خیبر پختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے صوبہ بھر کے تمام سرکاری اسکولوں کے اساتذہ پر دورانِ ڈیوٹی محکمہ تعلیم کے دفاتر میں آنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
محکمے کی جانب سے جاری کردہ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اساتذہ کی غیر حاضری اور تعلیمی سرگرمیوں میں خلل کی شکایات کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ اب کوئی بھی استاد اسکول کے اوقات کے دوران کسی بھی تعلیمی دفتر میں ذاتی کام، تبادلوں یا دیگر انتظامی معاملات کے لیے نہیں جا سکے گا۔
نئی ہدایات کے مطابق، اگر کوئی استاد دفتری اوقات کے دوران کسی بھی ضلعی یا صوبائی دفتر میں موجود پایا گیا تو اس کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ضلعی تعلیمی افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دفاتر میں اساتذہ کی آمد و رفت کی نگرانی کریں اور خلاف ورزی کرنے والوں کی فوری رپورٹ ہیڈ کوارٹر کو بھیجیں۔
محکمہ تعلیم نے واضح کیا ہے کہ اساتذہ کو اپنے انتظامی مسائل کے حل کے لیے اب آن لائن پورٹل یا ہیڈ ماسٹر کے ذریعے باضابطہ خط و کتابت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ دفاتر میں براہ راست حاضری پر پابندی کا مقصد اسکولوں میں اساتذہ کی موجودگی کو یقینی بنانا ہے، کیونکہ ماضی میں بڑی تعداد میں اساتذہ کے دفاتر کے چکر لگانے کی وجہ سے طلبہ کی پڑھائی بری طرح متاثر ہو رہی تھی۔
محکمے کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صوبے کے کئی اضلاع میں آڈٹ کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ اساتذہ کی غیر حاضری کی سب سے بڑی وجہ دفتری کاموں میں غیر ضروری مصروفیت ہے۔ "کلاس روم ایک استاد کی اولین ترتیبات ہونی چاہیے، نہ کہ دفتری راہداریاں،” انہوں نے مزید کہا۔
دوسری جانب، اساتذہ کی تنظیموں نے اس فیصلے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کچھ نمائندوں کا کہنا ہے کہ آن لائن نظام اکثر سست روی کا شکار رہتا ہے، جس کی وجہ سے تنخواہوں یا پروموشن جیسے فوری مسائل کے حل کے لیے اساتذہ کو مجبورا دفاتر جانا پڑتا ہے۔
محکمہ تعلیم اپنے موقف پر قائم ہے کہ "زیرو ٹالرنس” کی پالیسی اپنائی جائے گی اور اساتذہ کو ہر صورت اسکول میں اپنی موجودگی یقینی بنانا ہوگی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ پابندی تعلیمی معیار میں بہتری لانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے یا انتظامی مسائل کے حل میں نئی رکاوٹیں پیدا کرتی ہے۔
