واشنگٹن: گوگل میپس نے امریکا میں موجود صارفین کے لیے “Lake Ontario” کا نام تبدیل کرکے “Lake America” دکھانا شروع کردیا ہے۔ یہ تبدیلی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو آرڈر کے بعد کی گئی ہے جس میں جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ یہ اقدام امریکا اور کینیڈا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔
اس تبدیلی نے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان ایک نیا تنازع پیدا کردیا ہے۔ کینیڈین حکام نے نئے نام کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کینیڈا میں اس جھیل کو بدستور جھیل اونٹاریو ہی کہا جائے گا۔
گوگل نے امریکی حکومتی ڈیٹا کی بنیاد پر نام تبدیل کیا
گوگل کے مطابق نام میں تبدیلی اس لیے کی گئی کیونکہ امریکی جغرافیائی ناموں کے معلوماتی نظام (GNIS) نے جھیل کا نام باضابطہ طور پر تبدیل کردیا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ گوگل میپس کی ایک طویل عرصے سے جاری پالیسی ہے کہ ایسے جغرافیائی مقامات کے لیے متعلقہ سرکاری نام استعمال کیے جائیں جن کے نام مختلف ممالک میں مختلف ہوں۔
اب امریکا میں گوگل میپس استعمال کرنے والے افراد کو “Lake America” نظر آئے گا، جبکہ کینیڈا میں صارفین کو بدستور “Lake Ontario” دکھائی دے گا۔ امریکا اور کینیڈا سے باہر موجود صارفین کو دونوں نام نظر آئیں گے۔
کینیڈا نے نام کی تبدیلی مسترد کردی
کینیڈا میں اس فیصلے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
اونٹاریو کے وزیرِاعلیٰ ڈگ فورڈ نے نام کی تبدیلی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کینیڈین عوام اس جھیل کو جھیل اونٹاریو ہی کہتے رہیں گے۔
انہوں نے گرِمس بی کے قریب ایک بڑا سائن بورڈ بھی نصب کروایا جس پر انگریزی اور فرانسیسی زبان میں “Lake Ontario. Now and Always” لکھا گیا ہے۔
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے بھی امریکی اقدام کو مسترد کیا اور جھیل کے نام کی تاریخی اور مقامی اہمیت پر زور دیا۔
“اونٹاریو” کا نام وینڈٹ زبان کے ایک قدیم لفظ سے نکلا ہے اور یہ نام جدید کینیڈا یا امریکا کے قیام سے کئی صدیوں پہلے سے استعمال ہوتا آرہا ہے۔
نام کی تبدیلی ایسے وقت میں ہوئی جب تجارتی کشیدگی بڑھ رہی ہے
جھیل کے نام پر تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور کینیڈا کے تعلقات پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
واشنگٹن اور اوٹاوا کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی مصنوعات پر ٹیرف اور جوابی اقدامات کیے ہیں، جس سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔
اسی لیے نام کی تبدیلی کو محض جغرافیائی تبدیلی کے بجائے دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر سیاسی اور تجارتی تنازع کے ایک علامتی اقدام کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
خلیج میکسیکو کے نام کی تبدیلی بھی اسی طرح ہوئی تھی
یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ گوگل میپس نے ٹرمپ انتظامیہ کے حکم کے بعد کسی جغرافیائی مقام کا نام تبدیل کیا ہو۔
اس سے قبل ٹرمپ کے حکم کے بعد امریکا میں “Gulf of Mexico” کا نام تبدیل کرکے “Gulf of America” کردیا گیا تھا۔ تاہم کینیڈا اور میکسیکو نے اس نئے امریکی نام کو تسلیم نہیں کیا۔
گوگل مختلف علاقوں میں سرکاری جغرافیائی ناموں کے مطابق نقشے پر نام ظاہر کرنے کی پالیسی پر عمل کرتا ہے۔
ایپل میپس پر اب بھی جھیل اونٹاریو
گوگل کے فیصلے کے بعد مختلف میپنگ پلیٹ فارمز کے درمیان بھی فرق سامنے آیا ہے۔
اتوار تک Apple Maps پر امریکا میں بھی جھیل کا نام “Lake Ontario” ہی دکھایا جارہا تھا، جبکہ گوگل میپس نے “Lake America” کا نام نافذ کردیا ہے۔
اسی طرح MapQuest نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ جھیل کا نام تبدیل نہیں کرے گا۔
اس کا مطلب ہے کہ فی الحال مختلف میپنگ سروسز استعمال کرنے والے افراد کو ایک ہی جھیل کے لیے مختلف نام نظر آسکتے ہیں۔
ایگزیکٹو آرڈر کا اصل اثر کیا ہے؟
امریکی ایگزیکٹو آرڈر بنیادی طور پر امریکی وفاقی اداروں اور امریکی جغرافیائی ناموں کے سرکاری نظام میں استعمال ہونے والے نام پر لاگو ہوتا ہے۔
یہ حکم کینیڈا کے سرکاری جغرافیائی نام تبدیل نہیں کرتا اور نہ ہی کینیڈین حکام کو نیا نام اختیار کرنے کا پابند کرتا ہے۔
جھیل اونٹاریو کینیڈا کے صوبے اونٹاریو اور امریکی ریاست نیویارک کے درمیان واقع ہے، جس کی وجہ سے اس نام کا تنازع دونوں ممالک کے لیے خاص حساسیت رکھتا ہے۔
فی الحال صورتحال یہ ہے کہ سرحد کے ایک طرف یہی جھیل Lake Ontario جبکہ دوسری طرف Lake America کے نام سے دکھائی جارہی ہے۔
گوگل میپس کی جانب سے نام کی تبدیلی نے امریکا اور کینیڈا کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک نیا باب شامل کردیا ہے، جہاں ایک جغرافیائی نام اب دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سیاسی اور تجارتی اختلافات کی علامت بن گیا ہے۔
