واشنگٹن نے وینزویلا کے 17 آئل فیلڈز میں پیداوار بحال کرنے کے لیے خاموش سفارت کاری شروع کر دی ہے۔ یہ قدم امریکی توانائی کی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قلت کو کنٹرول کرنا اور اپنی ریفائنریز کی ضروریات پوری کرنا ہے۔
امریکی حکام کی توجہ خاص طور پر ‘اورینوکو بیلٹ’ اور ‘لیک ماراکائیبو’ کے ان بلاکس پر ہے جہاں کا بھاری خام تیل امریکی گلف کوسٹ کی ریفائنریز کے لیے موزوں ہے۔ کئی سال کی معاشی پابندیوں اور دیکھ بھال کے فقدان کے باعث یہ فیلڈز تباہ حالی کا شکار ہیں۔ اب وائٹ ہاؤس ایک ایسے توازن کی تلاش میں ہے جہاں وہ پابندیوں کو مکمل ختم کیے بغیر، ان مخصوص فیلڈز میں امریکی ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کی واپسی کی راہ ہموار کر سکے۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سیاسی سے زیادہ اقتصادی مجبوری ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور روسی تیل پر پابندیوں نے امریکی حکام کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ وینزویلا کے وسیع ذخائر کو نظر انداز نہ کریں۔ تاہم، یہ راستہ کانٹوں سے بھرا ہوا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے اندر ایک حلقہ اب بھی اس بات پر بضد ہے کہ مادورو حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعاون انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموشی کے مترادف ہوگا۔
ان 17 فیلڈز کی بحالی کوئی آسان کام نہیں ہے۔ برسوں کی لاپرواہی کے باعث یہاں کا انفراسٹرکچر زنگ آلود ہو چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر آج کام شروع بھی کیا جائے، تو ان فیلڈز کو مکمل تجارتی پیداوار کے قابل بنانے میں کم از کم 18 ماہ کا عرصہ درکار ہوگا۔
دوسری جانب، وینزویلا کی سرکاری کمپنی ‘پی ڈی وی ایس اے’ کے ساتھ کسی بھی قسم کا معاہدہ کانگریس میں سخت مخالفت کا سامنا کرے گا۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں جماعتوں کے کئی ارکان کا موقف ہے کہ وینزویلا کی حکومت کو رعایت دینا جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہے۔
حکومت کے اندرونی ذرائع کے مطابق، وائٹ ہاؤس اب ‘ٹارگٹڈ آتھرائزیشنز’ پر غور کر رہا ہے۔ یعنی صرف ان مخصوص منصوبوں کو کام کرنے کی اجازت دی جائے گی جن کا براہ راست تعلق امریکی توانائی کے تحفظ سے ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ 17 فیلڈز واقعی عالمی توانائی بحران کا حل بن سکیں گی یا پھر واشنگٹن کی سیاست کی نذر ہو جائیں گی؟ فی الحال یہ فیلڈز صرف نقشوں پر موجود اہداف ہیں، جنہیں حقیقت کا روپ دینے کے لیے وائٹ ہاؤس کو اپنے سیاسی بیانیے اور زمینی حقائق کے درمیان ایک مشکل راستہ تلاش کرنا ہوگا۔
