جماعتِ اسلامی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے چھ نکاتی تجاویز پیش کر دی ہیں۔ جماعت کا موقف ہے کہ حکومت پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسوں کے ذریعے عوام کی جیبوں پر بوجھ ڈال کر اپنے اخراجات پورے کر رہی ہے، جسے فوری طور پر ختم کرنے کی ضرورت ہے۔
جماعتِ اسلامی کی جانب سے پیش کردہ اس پلان کا مرکزی نقطہ درآمدی لاگت اور سپلائی چین میں موجود غیر ضروری اخراجات کا آڈٹ ہے۔ پارٹی قیادت کا دعویٰ ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں ‘پوشیدہ اخراجات’ شامل ہیں، جن میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے بھاری منافع اور مختلف سرچارجز شامل ہیں، جو قیمتوں کو عالمی مارکیٹ سے کہیں زیادہ اوپر لے جاتے ہیں۔
معاشی ماہرین کی ٹیم کے مطابق، پیٹرولیم لیوی موجودہ مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ تجویز میں کہا گیا ہے کہ اگر حکومت لیوی کو ختم یا محدود کر دے اور غیر ضروری سرچارجز کا خاتمہ کرے تو پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں نمایاں کمی ممکن ہے۔
اسلام آباد میں پریس بریفنگ کے دوران جماعتِ اسلامی کے ترجمان نے کہا کہ "حکومت نے پیٹرول کو اپنے مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ ہم نے نشاندہی کی ہے کہ قیمتوں کے فارمولے سے کہاں کہاں اضافی بوجھ کم کیا جا سکتا ہے، اس کے لیے کسی بیرونی امداد کی نہیں، صرف سیاسی ارادے کی ضرورت ہے۔”
تجاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی رقم کو وفاقی بجٹ کے گھاٹے پورے کرنے کے بجائے براہِ راست پبلک ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے لیے سبسڈی کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اس سے نہ صرف مہنگائی کم ہوگی بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں بھی بہتری آئے گی۔
دوسری جانب، حکومتی ذرائع اور معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تجاویز بظاہر پرکشش ہیں لیکن ان پر عمل درآمد ایک مشکل چیلنج ہے۔ حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی پابند ہے، جس کے تحت محصولات کے اہداف پورے کرنا ضروری ہیں۔ آئی ایم ایف کی شرائط میں پیٹرولیم لیوی کا برقرار رہنا مالیاتی استحکام کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے۔
جماعتِ اسلامی اب اس معاملے کو پارلیمنٹ میں اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ بجٹ سے قبل قیمتوں کے تعین کے موجودہ نظام پر نظرثانی کی جا سکے۔ حکومت کی جانب سے فی الحال ان تجاویز پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، کیونکہ تمام تر توجہ آئی ایم ایف کے طے کردہ مالیاتی اہداف پر مرکوز ہے۔
اگرچہ حکومتی حلقوں میں ان تجاویز کو عملی طور پر مشکل قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں جماعتِ اسلامی کا یہ چھ نکاتی فارمولا عوام کی توجہ کا مرکز ضرور بن گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکومت عوامی دباؤ کے پیشِ نظر اپنے مالیاتی فارمولے میں کوئی لچک پیدا کرتی ہے یا نہیں۔
