سندھ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ نے شو رومز میں کھڑی غیر رجسٹرڈ گاڑیوں پر عائد بھاری جرمانے کم کر دیے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد صوبے میں گاڑیوں کی رجسٹریشن کے عمل کو تیز کرنا اور ڈیلرز کو درپیش مالی مشکلات میں ریلیف فراہم کرنا ہے۔
کراچی اور حیدرآباد سمیت صوبے بھر کے کار ڈیلرز کافی عرصے سے مطالبہ کر رہے تھے کہ رجسٹریشن پر عائد بھاری سرچارجز ان کے کاروبار کو ناقابلِ عمل بنا رہے ہیں۔ نئی پالیسی کے تحت، ڈیلرز اب ایک مخصوص مدت کے اندر اپنی گاڑیوں کی رجسٹریشن کروا کر جرمانوں میں نمایاں رعایت حاصل کر سکیں گے۔
ایکسائز حکام کے مطابق، اس فیصلے کا بنیادی مقصد ان ہزاروں گاڑیوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے جو طویل عرصے سے شو رومز میں بغیر رجسٹریشن کے کھڑی ہیں۔ حکومت کو توقع ہے کہ جرمانے کم ہونے سے نہ صرف سرکاری ریونیو میں اضافہ ہوگا بلکہ بیوروکریسی کی رکاوٹوں میں پھنسی گاڑیوں کی خرید و فروخت کا عمل بھی بحال ہو سکے گا۔
آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے ایک عہدیدار نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ "جرمانے اس حد تک بڑھ چکے تھے کہ گاڑی کی قیمت سے زیادہ ٹیکس بن جاتا تھا، جس کی وجہ سے ڈیلرز رجسٹریشن سے کتراتے تھے۔ یہ ریلیف ہمیں اپنے ریکارڈز صاف کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔”
موجودہ معاشی حالات میں آٹوموبائل سیکٹر پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔ مہنگائی اور بلند شرح سود کے باعث خریداروں کی تعداد میں کمی آئی ہے، جس سے ڈیلرز کے پاس گاڑیوں کا اسٹاک جمع ہو گیا ہے۔ حکومت کا یہ فیصلہ اس شعبے کو درپیش بحران میں ایک عارضی سہارا ثابت ہو سکتا ہے۔
تاہم، یہ رعایت مستقل نہیں ہے۔ محکمہ ایکسائز نے واضح کیا ہے کہ ایمنسٹی کی مدت ختم ہونے کے بعد رجسٹریشن نہ کروانے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں گاڑیوں کو تحویل میں لینا بھی شامل ہو سکتا ہے۔
عام خریدار کے لیے اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ اب انہیں گاڑی خریدتے وقت رجسٹریشن کے طویل اور پیچیدہ عمل سے نہیں گزرنا پڑے گا۔ ڈیلرز اب قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ہی گاڑی خریدار کے حوالے کر سکیں گے۔
محکمہ ایکسائز کی جانب سے جرمانوں میں کمی کی حتمی تفصیلات اور مدت کا باقاعدہ نوٹیفکیشن آئندہ چند روز میں جاری کر دیا جائے گا۔ یہ فیصلہ صوبائی ٹیکس اتھارٹی اور آٹوموبائل ریٹیل سیکٹر کے درمیان تعاون کی ایک نایاب مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
