حکومت نے بدھ کی رات پیٹرول کی قیمت میں 9 روپے 99 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا، جو گزشتہ دو ہفتوں کے دوران قیمتوں میں دوسرا بڑا اضافہ ہے۔ ہائی اوکٹین اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جس سے عام آدمی کے لیے سفری اخراجات کا بوجھ ناقابلِ برداشت ہو گیا ہے۔
نئی قیمتوں کا اطلاق رات بارہ بجے سے ہو چکا ہے۔ پیٹرول پمپس پر رات گئے تک گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی رہیں، جہاں شہری پرانی قیمت پر ایندھن ڈلوانے کے لیے کوشاں تھے۔ صبح ہوتے ہی پمپس پر لگے نئے ریٹ بورڈز نے عوام کی مشکلات میں اضافے کی تصدیق کر دی۔
اسلام آباد میں رائیڈ شیئرنگ کرنے والے جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ "میری تنخواہ کا چالیس فیصد حصہ صرف پیٹرول میں جا رہا ہے۔ اگر قیمتیں اسی رفتار سے بڑھتی رہیں تو مجھے گھر کا خرچ چلانے کے لیے گاڑی بیچنا پڑے گی۔”
وزارتِ خزانہ نے اس اضافے کا ذمہ دار عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور روپے کی گرتی ہوئی قدر کو ٹھہرایا ہے۔ حکومتی موقف ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی شرائط اور بجٹ خسارے کو کنٹرول کرنے کے لیے یہ اقدام ناگزیر تھا۔ تاہم، عوام کے لیے یہ دلیل مہنگائی کے طوفان میں کوئی تسلی نہیں رکھتی۔
ماہرینِ معیشت متنبہ کر رہے ہیں کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا اثر صرف ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں رہے گا۔ اس کے نتیجے میں سبزیوں سے لے کر تعمیراتی سامان تک ہر چیز کی قیمت میں اضافہ ہوگا، جس کی زد میں سب سے زیادہ غریب طبقہ آئے گا۔ جلد ہی پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی اضافے کا قوی امکان ہے۔
اپوزیشن نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے عوام دشمن اقدام قرار دیا ہے اور حکومت سے قیمتیں واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملکی معاشی صورتحال ایسی نہیں کہ مزید سبسڈی کا بوجھ اٹھایا جا سکے۔
پیٹرول کی نئی قیمتوں نے متوسط طبقے کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا ہے۔ بہت سے لوگ اب گاڑیوں کے بجائے متبادل راستے یا کار پولنگ تلاش کر رہے ہیں۔ لیکن جن کے لیے روزگار کی تلاش میں روزانہ سڑکوں پر نکلنا مجبوری ہے، ان کے لیے اب سفر کرنا ہی دن کا سب سے مہنگا ترین کام بن چکا ہے۔
