برطانیہ کے آف شور انرجی سیکٹر نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شمالی سمندر میں تیل اور گیس کے 100 نئے منصوبوں کی منظوری دی جائے۔ انڈسٹری کے نمائندوں کا موقف ہے کہ ان منصوبوں کو شروع کرنے سے نہ صرف توانائی کی ملکی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ ہزاروں ملازمتیں بھی محفوظ رہیں گی۔
آف شور انرجیز یو کے نے ان منصوبوں کی فہرست تیار کی ہے جو تکنیکی اعتبار سے قابلِ عمل ہیں۔ انڈسٹری کے سربراہان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ٹیکس پالیسیوں میں استحکام برقرار رکھا، تو یہ منصوبے فوری طور پر توانائی کی پیداوار میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔
انڈسٹری کے لیے منطق واضح ہے؛ درآمد شدہ مہنگی گیس کے مقابلے میں ملکی پیداوار زیادہ سستی اور محفوظ ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر نئی سرمایہ کاری نہ کی گئی تو شمالی سمندر میں پیداوار کی رفتار تیزی سے گرے گی، جس سے توانائی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
ایک انڈسٹری ذرائع نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "ہمارے پاس صلاحیت بھی ہے اور بنیادی ڈھانچہ بھی، لیکن ہمیں حکومت کی جانب سے واضح اشارہ چاہیے کہ وہ ہمیں توانائی کے مستقبل کا حصہ سمجھتی ہے۔”
دوسری جانب ماحولیاتی تنظیموں نے اس مطالبے کی سخت مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے 2050 تک نیٹ زیرو (صفر اخراج) کے ہدف کے ہوتے ہوئے نئے تیل و گیس کے کنویں کھودنا خود اپنے وعدوں کی نفی ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کو فوسل فیول کے بجائے ونڈ، سولر اور ہائیڈروجن جیسے متبادل ذرائع پر خرچ ہونا چاہیے۔
حکومت اس وقت ایک مشکل دو راہے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف توانائی کی سیکیورٹی کا دباؤ ہے، تو دوسری طرف ‘ونڈ فال ٹیکس’ کے نفاذ نے سرمایہ کاروں کو تذبذب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ کئی بڑی کمپنیاں اب نئے منصوبوں پر سرمایہ کاری کرنے سے پہلے طویل مدتی ٹیکس پالیسی کے واضح ہونے کا انتظار کر رہی ہیں۔
ان 100 مجوزہ منصوبوں میں زیادہ تر چھوٹے ‘ٹائی بیک’ پروجیکٹس ہیں، جنہیں موجودہ پلیٹ فارمز کے ساتھ منسلک کرنا آسان اور کم خرچ ہے۔ یہ منصوبے اس عبوری دور میں توانائی کی فراہمی کو مستحکم رکھنے کے لیے ایک پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
حکومت آئندہ چند ماہ میں شمالی سمندر کے لیے اپنی نئی حکمت عملی کا اعلان کرنے والی ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا حکومت توانائی کی سیکیورٹی کے دعووں کو عملی شکل دیتے ہوئے مزید ڈرلنگ پرمٹس جاری کرتی ہے یا ماحولیاتی دباؤ کے پیشِ نظر اپنے فیصلے میں تبدیلی لاتی ہے۔
