کراچی کے علاقے کورنگی میں پولیس اہلکاروں پر ہونے والے حملے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دو مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس حملے میں دو پولیس اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوا تھا۔ تفتیشی ٹیموں نے رات گئے ایک خفیہ آپریشن کے دوران ملزمان کو حراست میں لیا اور ان کے قبضے سے وہ اسلحہ اور موٹر سائیکل بھی برآمد کر لی جو واردات میں استعمال کی گئی تھی۔
واقعہ اس وقت پیش آیا جب پولیس کی گشتی ٹیم معمول کے مطابق علاقے میں موجود تھی۔ موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے پولیس موبائل کو نشانہ بنایا اور فرار ہو گئے۔ حملے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ ہیڈ کانسٹیبل ذیشان اور کانسٹیبل خالد موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
یہ گرفتاریاں سندھ انسپکٹر جنرل کی جانب سے جاری کردہ سخت ہدایات کے بعد عمل میں آئیں۔ پولیس کی فرانزک ٹیموں نے جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد، قریبی فیکٹریوں کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج اور موبائل ڈیٹا کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگایا۔
انسدادِ دہشت گردی کے ایک اعلیٰ افسر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہم نے وہ ملزمان پکڑ لیے ہیں جنہوں نے گولیاں چلائیں۔ یہ محض عام مجرم نہیں، بلکہ ان کا مقصد پولیس کو نشانہ بنا کر علاقے میں خوف و ہراس پھیلانا تھا۔”
گرفتاریوں کے باوجود کورنگی میں صورتحال کشیدہ ہے۔ مقامی شہریوں میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ مصروف شاہراہ پر دن دہاڑے ایسا حملہ کیسے ممکن ہوا۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران اس سیکٹر میں پولیس پر حملے کا یہ تیسرا واقعہ ہے، جس نے شہر کے مضافاتی علاقوں میں منظم جرائم پیشہ گروہوں کی موجودگی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ملزمان کو تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ تفتیشی حکام اب یہ تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا یہ ملزمان کسی بڑے نیٹ ورک کا حصہ ہیں یا یہ انتقامی کارروائی کا ایک الگ واقعہ تھا۔
شہید ہونے والے اہلکاروں کے لواحقین کے لیے ان گرفتاریوں سے دکھ کا مداوا ممکن نہیں۔ پولیس محکمہ اب شہداء کی آخری رسومات کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ شہر کی فضا میں ایک ہی سوال گونج رہا ہے: کیا ان گرفتاریوں سے اس نیٹ ورک کا خاتمہ ہو جائے گا، یا اگلی گشتی ٹیم بھی اسی طرح غیر محفوظ رہے گی؟
