کراچی: بین الاقوامی تحقیق میں پاکستان میں گائے سے انسان کو ریبیز منتقل ہونے کا پہلا کیس رپورٹ کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ ایک 18 سالہ کسان کے ساتھ پیش آیا جسے چارہ دیتے وقت گائے نے کاٹ لیا۔ خوش قسمتی سے اسے 2024 میں کراچی کے انڈس اسپتال میں بروقت طبی امداد ملی اور اس کی جان بچ گئی۔
تحقیق، جو "A Rabid Cow Bites the Hand That Feeds It” کے عنوان سے شائع ہوئی، کے مطابق کسان کو ریبیز کا خطرہ معلوم تھا، اس لیے وہ اسی دن ریبیز پریوینشن سینٹر پہنچ گیا۔ چونکہ اسے 4 سال پہلے مکمل ویکسین لگ چکی تھی، اس لیے صرف فالو اپ ویکسین دی گئی۔
ڈان نیوز کے مطابق کچھ دن بعد گائے کا رویہ عجیب ہو گیا اور وہ مر گئی۔ لیبارٹری ٹیسٹ سے گائے میں ریبیز کی تصدیق ہوئی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ گائے کو کچھ دن پہلے ایک آوارہ کتے نے کاٹا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خطرناک صورتحال ہے کیونکہ مویشیوں سے بھی ریبیز انسانوں میں منتقل ہو سکتی ہے۔ دیہات میں پہلے بھی گایوں میں ریبیز کے کیس آئے ہیں، لیکن انسان کو متاثر کرنے کا یہ پہلا رپورٹ شدہ واقعہ ہے۔
تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر نسیم صلاح الدین نے کہا کہ دیہی علاقوں میں ریبیز پر قابو پانے کے اقدامات ضروری ہیں کیونکہ مویشی کسانوں کی آمدنی کا اہم ذریعہ ہیں۔ گائے کی موت ان کے لیے بڑا نقصان ہے۔
تحقیق میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ انسانوں اور جانوروں دونوں کے لیے ریبیز ویکسین کی فراہمی یقینی بنائی جائے، ایمرجنسی سہولیات کو بہتر بنایا جائے، اور طبی عملے کو تربیت دی جائے۔ جانوروں میں ریبیز کی بہتر نگرانی بھی ضروری ہے۔
