واشنگٹن / اسلام آباد، 12 اگست: امریکا نے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کے عسکری ونگ مجید بریگیڈ کو باضابطہ طور پر غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں قرار دے دیا ہے، ان پر پاکستان میں متعدد مہلک حملوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
امریکی محکمۂ خارجہ نے پیر کو اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے مجید بریگیڈ کو بی ایل اے کے پہلے سے موجود ’’اسپیشلی ڈیزگنیٹڈ گلوبل ٹیررسٹ‘‘ (SDGT) اسٹیٹس میں بطور عرفیت شامل کر دیا، جو 2019 میں نافذ کیا گیا تھا۔ یہ نامزدگی امریکی امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ کی سیکشن 219 اور ایگزیکٹو آرڈر 13224 کے تحت کی گئی ہے اور وفاقی رجسٹر میں شائع ہونے پر نافذ العمل ہو جائے گی۔
بی ایل اے 2019 سے SDGT کے طور پر درج ہے اور اس کے بعد سے اس نے متعدد بڑے حملوں، بشمول خودکش دھماکوں اور مسلح کارروائیوں، کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ 2024 میں بی ایل اے نے کراچی ایئرپورٹ کے قریب اور گوادر پورٹ اتھارٹی کمپلیکس پر ہونے والے خودکش حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ رواں سال مارچ میں اس کے عسکری ونگ مجید بریگیڈ نے جعفر ایکسپریس ٹرین کو اغوا کیا، جس میں 31 افراد ہلاک اور 300 سے زائد یرغمال بنائے گئے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ یہ اقدام واشنگٹن کے دہشت گردی کے خلاف عزم اور عسکری گروہوں کے معاون نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد قرار دینا ایسی تنظیموں کی صلاحیت محدود کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
یہ فیصلہ پاکستان کی جانب سے بارہا کی جانے والی درخواستوں کے بعد آیا ہے، جن میں حالیہ مطالبہ جولائی میں کیا گیا تھا۔ اسلام آباد طویل عرصے سے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ پر بی ایل اے کی پشت پناہی کا الزام عائد کرتا آیا ہے، تاکہ بلوچستان کو غیر مستحکم کیا جا سکے اور سی پیک منصوبوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سر فراز بگٹی نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کریڈٹ دیا جنہوں نے واشنگٹن میں پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی ایل اے اور مجید بریگیڈ نے ’’حقوق اور قومیت کے نام پر بے گناہوں کا خون بہایا‘‘ اور دنیا سے دہشت گردی کے خلاف یکجہتی اختیار کرنے کی اپیل کی۔
