خیبرپختونخوا میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران موسلا دھار بارشوں، اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 321 تک جا پہنچی ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق صرف خیبرپختونخوا میں 307 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں، جبکہ اموات گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 279 مرد، 15 خواتین اور 13 بچے شامل ہیں۔ اسی دوران 23 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں 17 مرد، 4 خواتین اور 2 بچے شامل ہیں۔بونیر ضلع اس سانحے کا سب سے بڑا مرکز ثابت ہوا جہاں 184 افراد جاں بحق اور 23 زخمی ہوئے۔ دوسری جانب سوات میں بھی بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی جہاں اب تک 20 اموات رپورٹ ہوچکی ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ اور امدادی اداروں نے 2 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بارشوں کا موجودہ سلسلہ 21 اگست تک جاری رہ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں مزید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ہیں۔
پاک فوج، ضلعی انتظامیہ اور رضاکار ٹیمیں مسلسل ریسکیو اور ریلیف آپریشنز میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو خوراک، ادویات اور خیمے فراہم کیے جا رہے ہیں، تاہم راستوں کے بند ہونے کے باعث امدادی کارروائیاں سست روی کا شکار ہیں۔
