اسلام آباد:
پاکستان میں فضائی آلودگی ملکی معیشت کو ہر سال تقریباً 22 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا رہی ہے، جو کہ قومی مجموعی پیداوار (GDP) کا 6.5 فیصد بنتا ہے۔ یہ انکشاف سینیٹر شیری رحمٰن نے سینیٹ کے ایک اجلاس کے دوران کیا، جہاں انہوں نے فضائی آلودگی کو قومی سطح کا سنگین بحران قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ صرف پنجاب میں اسموگ کی وجہ سے پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ بچے شدید متاثر ہو رہے ہیں، جس سے ان کی صحت، نشوونما اور زندگی کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ سینیٹر کے مطابق یہ صورتحال ایک خاموش لیکن تباہ کن صحت کا بحران بن چکی ہے۔
سینیٹ میں پیش کیے گئے تازہ اعداد و شمار کے مطابق فضائی آلودگی کے باعث پاکستان میں ہر سال تقریباً 2 لاکھ 56 ہزار اموات ہو رہی ہیں، جو کہ سابقہ اندازوں سے تقریباً دوگنی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق آلودہ فضا کی وجہ سے پاکستانیوں کی اوسط عمر 3.7 سے 4.6 سال تک کم ہو رہی ہے، جو آئندہ نسلوں کے لیے نہایت تشویشناک ہے۔
سینیٹر شیری رحمٰن نے فضائی آلودگی کی بڑی وجوہات میں اینٹوں کے بھٹے، صنعتی دھواں اور گاڑیوں کا بے قابو اخراج کو ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آلودگی کی نگرانی اور مستند ڈیٹا کی شدید کمی موجود ہے، جس کی وجہ سے مؤثر حکمت عملی بنانا مشکل ہو چکا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ لاہور بدستور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل ہے، جہاں سردیوں کے دوران اسموگ کی شدت خطرناک سطح تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کے باوجود حکومتی اقدامات سست اور غیر مؤثر دکھائی دیتے ہیں۔
سینیٹر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر قومی سطح پر مربوط اقدامات کیے جائیں، جن میں ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد، صاف توانائی کا فروغ اور بچوں کی صحت کے تحفظ کے لیے خصوصی پالیسیوں کا نفاذ شامل ہو۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فوری فیصلے نہ کیے گئے تو پاکستان کی آنے والی نسلیں ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار ہوں گی۔
ماہرینِ ماحولیات نے بھی اجلاس میں اس بات پر زور دیا کہ اگر آلودگی پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ برسوں میں اس کے معاشی، طبی اور سماجی نقصانات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو جائے گا۔
