کراچی سمیت سندھ بھر میں حالیہ بارشوں کے بعد ڈینگی اور ملیریا کے کیسز میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ محکمہ صحت کے ترجمان کے مطابق یکم جنوری سے 25 اگست تک صوبے بھر میں ملیریا کے ایک لاکھ 16 ہزار 828 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے کراچی سے 1,200 کیسز سامنے آئے۔ شہر میں سب سے زیادہ متاثرہ ضلع ملیر ہے جہاں 432 مریض رپورٹ ہوئے۔
ترجمان کے مطابق حیدرآباد ڈویژن سے ملیریا کے 50 ہزار 499، لاڑکانہ ڈویژن سے 33 ہزار 333، سکھر ڈویژن سے 9 ہزار 263، میرپورخاص ڈویژن سے 8 ہزار 943 جبکہ شہید بینظیر آباد ڈویژن سے 13 ہزار 590 کیسز رپورٹ ہوئے۔ رواں سال دماغی ملیریا کے بھی تین کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جن کا تعلق حیدرآباد سے تھا۔
ڈینگی کے حوالے سے ترجمان نے بتایا کہ رواں سال سندھ میں سرکاری سطح پر 436 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے 375 کا تعلق کراچی سے ہے۔ کراچی کے ضلع شرقی میں ڈینگی کے 93، ضلع وسطی میں 85، ضلع جنوبی میں 73، ضلع کورنگی میں 52، ضلع ملیر میں 34 جبکہ ضلع غربی اور کیماڑی میں 19، 19 کیسز رپورٹ ہوئے۔
کراچی کے علاوہ ضلع حیدرآباد میں 43، میرپورخاص میں 13، شہید بینظیر آباد میں 3، سکھر میں 2 اور لاڑکانہ میں ایک کیس رپورٹ ہوا۔ تاہم یہ اعداد و شمار صرف سرکاری ہسپتالوں کے ہیں، نجی ہسپتالوں کا ڈیٹا شامل نہیں۔
ماہرین کے مطابق ڈینگی وائرس کی علامات میں تیز بخار، جسم پر لال دھبے اور ناک، منہ یا کان سے خون آنا شامل ہیں۔ یہ علامات خون کے زیادہ اخراج اور انسانی جسم کے شاک میں جانے کا سبب بن سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈینگی مچھر گھروں میں موجود صاف پانی میں نشونما پاتا ہے اور بالخصوص فجر اور مغرب کے اوقات میں کاٹتا ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ پانی کے برتن ڈھانپ کر رکھیں، مکمل آستین والے کپڑے پہنیں اور گھروں میں مچھروں سے بچاؤ کے اقدامات لازمی کریں۔
