کراچی یونیورسٹی میں پاکستان کارڈیک سوسائٹی کے تعاون سے ’’دل کی صحت مند مستقبل کی جانب ایک قدم‘‘ کے عنوان سے آگاہی سیمینار منعقد ہوا، جس میں شہر کے مختلف اداروں کے معروف ماہرین امراض قلب نے شرکت کی۔
چیف کارڈیالوجسٹ اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ٹبہ ہارٹ انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر بشیر حنیف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں دل کے امراض اموات کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ ہر سال تقریباً دو کروڑ افراد اس مرض کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں، جن میں سے ایک کروڑ 60 لاکھ اموات ترقی پذیر ممالک خصوصاً پاکستان، بھارت اور دیگر ایشیائی ممالک میں ریکارڈ ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دل کے امراض سے بچنے کے لیے صحت مند طرزِ زندگی، متوازن غذا، ورزش اور بروقت طبی معائنہ نہایت ضروری ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر منصور احمد نے کہا کہ جسمانی سرگرمیوں کی کمی دل کی بیماریوں میں اضافے کی اہم وجہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کھانے کو بار بار گرم کرنے کی عادت بھی نقصان دہ ہے کیونکہ اس سے پیدا ہونے والے ٹرانس فیٹس دل کے لیے خطرناک ہیں۔
وائس چانسلر جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ عوام کو توہمات کے بجائے سائنس پر یقین کرنا چاہیے اور مستند ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔ انہوں نے میڈیا ہاؤسز پر زور دیا کہ وہ صحت سے متعلق آگاہی مہمات کو تواتر سے جاری رکھیں۔
ڈاکٹر بیلا خان نے کہا کہ نوجوانوں میں آگاہی بیدار کرنا اس سیمینار کا مقصد ہے۔ ان کے مطابق بیماریوں سے بچاؤ کی پہلی اور سب سے اہم کڑی اسکریننگ ہے، خاص طور پر ذیابیطس، بلڈ پریشر اور موٹاپے جیسے عوامل کی۔
پروفیسر ڈاکٹر نواز لاشاری نے بتایا کہ دنیا کی 32 فیصد اموات دل اور شریانوں کی بیماریوں کے باعث ہوتی ہیں، اسی لیے یہ موضوع عالمی اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ ڈاکٹر لچمن داس کے مطابق بروقت تشخیص نہ صرف علاج کو آسان بناتی ہے بلکہ اخراجات بھی کم کرتی ہے۔
کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر اکمل وحید نے کہا کہ ہمیں طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلی لا کر صحت مند ماحول اپنانا ہوگا۔
دیگر ماہرین، بشمول پروفیسر ڈاکٹر خالدہ سومرو، ڈاکٹر روحی الیاس، ڈاکٹر اسداللہ خان سومرو، ڈاکٹر ایس ایم آفاق، ڈاکٹر اکرم سلطان اور ڈاکٹر بینش امام نے کہا کہ پاکستان میں خصوصاً نوجوانوں میں دل کی بیماریوں کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ رہی ہے، جو مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
مقررین نے زور دیا کہ عوام کو معمولی علامات کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور بروقت طبی معائنہ یقینی بنانا چاہیے تاکہ مرض کو ابتدائی مرحلے میں قابو کیا جاسکے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قومی سطح پر آگاہی مہمات اور بروقت تشخیص کے اقدامات کیے جائیں تاکہ اموات کی بڑھتی ہوئی شرح کو کم کیا جاسکے۔
