تہران/راولپنڈی، 23 مئی: چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کم کرانے کی پاکستانی ثالثی کوششوں کے سلسلے میں تہران پہنچ گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر جمعہ کی شام ایک باضابطہ وفد کے ہمراہ ایرانی دارالحکومت پہنچے۔ تہران ایئرپورٹ پر ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے ان کا استقبال کیا، جبکہ پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی بھی اس موقع پر موجود تھے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق پاکستان اور قطر کی کوششوں کا مقصد ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگی صورت حال کو روکنا، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانا اور وسیع تر مذاکرات کے لیے راستہ بنانا ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق آئندہ بات چیت کا معاملہ بھی زیر بحث آ سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات اب بھی گہرے ہیں۔ امریکا کی جانب سے محتاط امید ظاہر کی گئی ہے، مگر واشنگٹن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کسی بڑے بریک تھرو کی ضمانت فی الحال موجود نہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مذاکرات میں “معمولی پیش رفت” کا اشارہ دیا ہے، لیکن ساتھ ہی کہا ہے کہ بنیادی معاملات ابھی حل طلب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سفارتی حلقے اس دورے کو اہم تو قرار دے رہے ہیں، مگر اسے فیصلہ کن مرحلہ کہنے سے گریز کر رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز اس بحران کا سب سے حساس نکتہ بنی ہوئی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے، اس لیے وہاں کسی بھی طویل بندش یا رکاوٹ کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ معاملہ صرف سفارتی نہیں بلکہ سلامتی اور معاشی استحکام سے بھی جڑا ہوا ہے۔ ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے، اور خلیج میں بگڑتی ہوئی صورت حال اسلام آباد کے لیے براہ راست تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ اسی لیے پاکستان مسلسل کشیدگی میں کمی اور بات چیت کے راستے کو کھلا رکھنے پر زور دے رہا ہے۔
آئی ایس پی آر نے فوری طور پر یہ نہیں بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران میں کن ایرانی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے یا مذاکرات کا ایجنڈا کیا ہوگا۔ تاہم دورے کا وقت ظاہر کرتا ہے کہ اسلام آباد اس سفارتی موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہتا۔
اب نظریں تہران میں ہونے والی ملاقاتوں پر ہیں۔ اگر فریقین کسی ابتدائی سمجھوتے، جنگ بندی کے اصولوں یا مذاکراتی فریم ورک پر اتفاق کر لیتے ہیں تو یہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔ فی الحال امید بھی ہے، احتیاط بھی۔
