ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ بہت زیادہ گرم مشروبات پینے سے غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق جو افراد روزانہ آٹھ یا اس سے زیادہ کپ بہت گرم چائے یا کافی پیتے ہیں، ان میں غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ تقریباً 6 گنا زیادہ ہوتا ہے، ان لوگوں کے مقابلے میں جو اتنے گرم مشروبات نہیں پیتے۔ یہ تحقیق برطانیہ میں کی گئی جس میں تقریباً پانچ لاکھ افراد کو شامل کیا گیا۔
نتائج سے پتہ چلا کہ بہت زیادہ گرم مشروبات غذائی نالی کی اندرونی دیوار کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور وقت کے ساتھ یہ نقصان کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خطرہ مشروب کی قسم سے نہیں بلکہ اس کے درجہ حرارت سے جڑا ہے۔ مثال کے طور پر اگر 65 ڈگری سیلسیس کا مشروب ایک بڑا گھونٹ (تقریباً 20 ملی لیٹر) میں پیا جائے تو غذائی نالی کا درجہ حرارت تقریباً 12 ڈگری سیلسیس بڑھ سکتا ہے، جو خطرناک حد ہے۔
اس کے برعکس چھوٹے گھونٹ زیادہ محفوظ ہوتے ہیں اور اگر مشروب تھوڑا ٹھنڈا کر لیا جائے تو خطرہ کافی کم ہوجاتا ہے۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ چائے یا کافی کو فوراً نہ پیا جائے بلکہ تھوڑا انتظار کریں یا کپ کو ہلاتے رہیں تاکہ درجہ حرارت کم ہو جائے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مشروب کے بڑے گھونٹ لینے سے گریز کیا جائے اور آہستہ آہستہ چھوٹے گھونٹ پیے جائیں تاکہ غذائی نالی کو نقصان سے بچایا جا سکے۔
