عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ جمہوریہ کانگو اور یوگنڈا کو متاثر کرنے والی ایبولا کی نئی وبا کے لیے ویکسین دستیاب ہونے میں چھ سے نو ماہ لگ سکتے ہیں، جس کے بعد خطے میں وائرس کے پھیلاؤ پر تشویش بڑھ گئی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ وبا ایبولا کی ایک نایاب قسم بنڈی بوگیو وائرس سے پھیل رہی ہے، جس کے لیے فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج موجود نہیں۔ رپورٹس کے مطابق اب تک تقریباً 600 مشتبہ کیسز اور 139 مشتبہ اموات سامنے آ چکی ہیں، جبکہ کانگو میں 51 اور یوگنڈا میں 2 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔
ماہرین صحت کا خیال ہے کہ یہ وائرس مشرقی کانگو میں تقریباً دو ماہ تک خاموشی سے پھیلتا رہا، جس کے بعد اس کی شناخت ممکن ہوئی۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق تشخیص میں تاخیر، محدود ٹیسٹنگ اور ابتدائی علامات کا ملیریا اور ٹائیفائیڈ جیسی بیماریوں سے ملتا جلتا ہونا وبا پر قابو پانے میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
یہ وبا زیادہ تر کانگو کے مشرقی صوبے ایتوری کو متاثر کر رہی ہے، جبکہ شمالی کیوو میں بھی خدشات موجود ہیں۔ یہ علاقہ پہلے ہی بدامنی، نقل مکانی اور کمزور طبی نظام کا شکار ہے، جس کے باعث نگرانی، تشخیص اور ہنگامی طبی اقدامات مزید مشکل ہو گئے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے اس وبا کو بین الاقوامی تشویش کی حامل صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال قرار دیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ مشتبہ کیسز اور غیر واضح اموات کے بڑھتے ہوئے سلسلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وبا کا اصل حجم رپورٹ ہونے والے اعداد و شمار سے زیادہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین ممکنہ ویکسینز پر کام کر رہے ہیں، تاہم عالمی ادارہ صحت کے مطابق سب سے امید افزا ویکسین امیدوار کو استعمال کے قابل بنانے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ ایک دوسری ممکنہ ویکسین آکسفورڈ آسٹرازینیکا کووڈ ویکسین کے پلیٹ فارم پر مبنی ہے، مگر اس کے لیے بھی مزید تحقیق درکار ہے۔
طبی عملے نے حفاظتی سامان کی کمی، آئسولیشن سہولیات کی کمزوری اور اسپتالوں پر بڑھتے دباؤ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ صحت کی ٹیمیں متاثرہ افراد کے رابطوں کی تلاش، مشتبہ مریضوں کی علیحدگی، اور وائرس کے پھیلاؤ کی کڑیوں کو سمجھنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔
حکام عوام سے اپیل کر رہے ہیں کہ علامات ظاہر ہونے پر فوری اطلاع دیں، غیر محفوظ تدفین سے گریز کریں اور طبی ٹیموں سے تعاون کریں تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
