فن لینڈ جانے والے سیکڑوں پاکستانی طلبہ کو شدید مشکلات اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے کیونکہ قطر کی جانب سے پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا آن ارائیول سہولت معطل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد دوحہ کے راستے سفر کرنے والے طلبہ پریشانی میں مبتلا ہو گئے ہیں۔
فن لینڈ کی مختلف جامعات میں داخلہ لینے والے کئی طلبہ نے کم اخراجات اور آسان سفری رابطوں کی وجہ سے قطر ایئرویز کے ذریعے سفر کا انتخاب کیا تھا، تاہم نئی پابندیوں کے باعث متعدد طلبہ کو سفری مشکلات، تاخیر اور ممکنہ رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
متاثرہ طلبہ اور سفری ایجنٹس کے مطابق اب قطر کے راستے سفر کرنے والوں سے اضافی دستاویزات طلب کی جا رہی ہیں جبکہ بعض مسافروں کو پیشگی ویزا منظوری کی ہدایت بھی دی جا رہی ہے۔ اس صورتحال نے خاص طور پر فن لینڈ کے نئے تعلیمی سیشن میں جانے والے طلبہ کو متاثر کیا ہے۔
کئی طلبہ کا کہنا ہے کہ انہیں نئی پابندیوں کے بارے میں روانگی سے چند گھنٹے قبل آگاہ کیا گیا، جس کے باعث متبادل سفری انتظامات کرنا انتہائی مشکل ہو گیا۔ بعض خاندانوں نے دیگر ممالک کے ذریعے نئی پروازیں بک کروانے پر اضافی اخراجات بھی برداشت کیے ہیں۔
سفری ماہرین کے مطابق اگرچہ ٹرانزٹ مسافر عموماً ہوائی اڈے سے باہر نہیں جاتے، تاہم ایئرلائنز اور امیگریشن قوانین سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے طلبہ اور والدین میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے واضح ہدایات جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ معاملہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی زیرِ بحث ہے جہاں طلبہ نے تعلیمی نقصان، مالی خسارے اور تاخیر سے پہنچنے کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ کئی طلبہ نے پاکستانی حکام اور سفارتی اداروں سے بھی فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔
تعلیمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ فن لینڈ پہنچنے میں تاخیر سے طلبہ کو جامعہ میں رجسٹریشن، رہائش کے انتظامات اور رہائشی اجازت نامے کی تصدیق جیسے معاملات میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایئرلائنز، جامعات اور سفارت خانوں سے مسلسل رابطے میں رہیں۔
تاحال قطری حکام یا پاکستانی حکومت کی جانب سے اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہیں آئی، جبکہ طلبہ متبادل سفری راستے تلاش کرنے میں مصروف ہیں تاکہ تعلیمی سیشن شروع ہونے سے قبل فن لینڈ پہنچ سکیں۔
