انسٹاگرام ریلس، ٹک ٹاک ویڈیوز اور یوٹیوب شارٹس پر بظاہر بے ضرر اسکرولنگ اب ماہرینِ دماغ و اعصاب کے لیے تشویش کا باعث بنتی جا رہی ہے۔ حالیہ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مختصر ویڈیوز دماغ کے ان حصوں کو متاثر کرتی ہیں جو انعامی نظام (Reward Circuitry) کہلاتے ہیں اور بالکل ویسے ہی متحرک ہوتے ہیں جیسے شراب یا جوئے جیسی نشہ آور عادات میں۔ اس کے نتیجے میں توجہ، یادداشت اور محرک (Motivation) پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
فوری خوشی اور ڈوپامائن کا جال
مختصر ویڈیوز دماغ میں ڈوپامائن نامی کیمیکل خارج کرتی ہیں جو خوشی، تحریک اور لذت سے جڑا ہوا ہے۔
چین کی تیانجن نارمل یونیورسٹی کے پروفیسر کیانگ وانگ کی ایک تحقیق، جو نیورو امیج میں شائع ہوئی، میں بتایا گیا کہ جو لوگ شارٹ ویڈیوز زیادہ دیکھتے ہیں ان کے دماغ کا انعامی نظام غیر معمولی طور پر متحرک رہتا ہے۔ یہ وہی نظام ہے جو نشے یا جوا کھیلنے کے دوران سرگرم ہوتا ہے۔
پروفیسر وانگ کے مطابق:
“مختصر ویڈیو کی لت دنیا بھر میں صحتِ عامہ کے لیے خطرہ ہے۔”
یہ “فوری انعام” نہ صرف توجہ اور نیند کو متاثر کرتا ہے بلکہ ذہنی صحت کو بھی کمزور کرتا ہے اور ڈپریشن کے امکانات بڑھا دیتا ہے۔
دماغ پر اثرات: توجہ، نیند اور یادداشت
ڈوپامائن کا قبضہ: جیسے نشہ آور عادات دماغ پر حاوی ہو جاتی ہیں، ویسے ہی ریلس اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز دماغ کے انعامی نظام کو ہائی جیک کر لیتے ہیں۔ بار بار ڈوپامائن کے اخراج سے دماغ بارہا اسی خوشی کی طلب کرنے لگتا ہے، جو بالآخر لت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
متاثرہ دماغی حصے:
- پری فرنٹل کارٹیکس: یہ حصہ توجہ، خود پر قابو پانے اور فیصلے کرنے کا ذمہ دار ہے۔ مسلسل شارٹ ویڈیوز دیکھنے سے یہ زیادہ استعمال ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ سکڑ سکتا ہے، جس سے فیصلہ سازی اور خود پر قابو پانے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔
- ہپوکیمپس: یہ حصہ یادداشت اور سیکھنے سے جڑا ہے۔ رات گئے اسکرولنگ نیند کو متاثر کرتی ہے جس سے یادداشت کمزور اور سیکھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
کیا سوشل میڈیا بھی شراب کی طرح نقصان دہ ہے؟
ماہرین کے مطابق اگرچہ شراب دماغ کو براہِ راست نقصان پہنچاتی ہے، لیکن سوشل میڈیا بھی دماغ کے انعامی نظام کو اس طرح متاثر کرتا ہے کہ صارف بار بار نئی ویڈیوز دیکھنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بے صبری، خود پر قابو نہ رکھ پانا اور بار بار خوشی تلاش کرنے کی عادت پروان چڑھتی ہے۔
کتنا وقت زیادہ ہے؟ "ڈیجیٹل ڈیمنشیا” کا خطرہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ اسکرین ٹائم 2 سے 3 گھنٹے سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس سے زیادہ استعمال دماغ کو "ڈیجیٹل انٹاکسی کیشن” کی طرف لے جاتا ہے، جو آگے چل کر "ڈیجیٹل ڈیمنشیا” بن سکتا ہے۔ یہ کیفیت مسلسل ذہنی تھکن، نیند میں کمی اور یادداشت کے مسائل کا باعث بنتی ہے۔
پاکستان میں انسٹاگرام کا بڑھتا استعمال
پاکستان میں بھی مختصر ویڈیوز کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے:
- جنوری 2024 میں ملک میں انسٹاگرام صارفین کی تعداد 1 کروڑ 73 لاکھ تھی۔
- جولائی 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر 1 کروڑ 85 لاکھ 90 ہزار ہو گئی، جو ملک کی کل آبادی کا 8 فیصد ہے۔
- ایک صارف کی اوسط سوشل میڈیا ڈیٹا کھپت جون 2025 تک 8.53 جی بی ماہانہ تک جا پہنچی، جس کا زیادہ تر حصہ ریلس، ٹک ٹاک، یوٹیوب اور فیس بک جیسی ویڈیوز پر صرف ہوا۔
سفارشات
- روزانہ اسکرین ٹائم 2–3 گھنٹے سے کم رکھیں۔
- وقفے وقفے سے اسکرولنگ بند کریں اور دماغ کو آرام دیں۔
- سونے سے پہلے اسکرین سے گریز کریں تاکہ یادداشت متاثر نہ ہو۔
- عوامی آگاہی مہمات اور ڈیجیٹل لٹریسی پروگرامز کو فروغ دیا جائے تاکہ لوگ "ڈیجیٹل لت” سے بچ سکیں۔
