ماؤنٹین ویو — الفابیٹ کے زیرِ ملکیت گوگل نے گوگل ارتھ میں متعارف کرائے جانے والے اپنے نئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی امیج جنریشن فیچر کو محض ایک دن کے اندر معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ صارفین کی جانب سے ایسی تصاویر شیئر کیے جانے کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا جو کمپنی کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کرتی دکھائی دیں۔ گوگل کے ‘نینو بنانا ٹو’ اے آئی ماڈل پر مبنی یہ ٹول صارفین کو دنیا بھر کے مقامات کے لیے ٹیکسٹ پرامپٹ درج کر کے گوگل ارتھ کی سیٹلائٹ اور تھری ڈی عکاسی کی بنیاد پر حقیقت پسندانہ تصاویر تیار کرنے کی اجازت دیتا تھا۔ اگرچہ کچھ ماہرین نے اسے مفید قرار دیا، تاہم ناقدین نے اس کے ذریعے حقیقی مقامات پر فرضی مناظر بنا کر غلط معلومات پھیلانے کے خدشات کا اظہار کیا تھا۔
گوگل نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ مضبوط حفاظتی اقدامات پر کام کرنے کے دوران اس فیچر کو عارضی طور پر روک رہا ہے، اور واضح کیا کہ یہ اے آئی سے تیار کردہ تصاویر واٹر مارک شدہ تھیں اور اصل گوگل ارتھ کے تجربے کا حصہ نہیں تھیں۔ یہ واقعہ اس امر کو اجاگر کرتا ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات میں جنریٹو اے آئی کو شامل کرتے وقت کن چیلنجز کا سامنا ہے، جہاں حفاظتی قوانین کی خلاف ورزیوں پر انہیں اکثر فیچرز محدود یا بند کرنا پڑتے ہیں۔ اس سے قبل میٹا نے بھی رازداری کے خدشات پر تنقید کے بعد اپنا ‘میوز امیج’ فیچر بند کر دیا تھا۔
