فیصل آباد میں ایک باپ اور اس کے بیٹے کو اس مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا ہے جس میں پولیس کے مطابق ایک شخص کو قتل کرکے اس کی لاش پھینک دی گئی۔ تفتیش کار اس واقعے کو مبینہ طور پر "غیرت” کے نام پر کیا گیا جرم قرار دے رہے ہیں۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب 10 اپریل کو ساہیانوالہ تھانے کی حدود میں واقع چک 127 ج ب سے ایک سر کٹی لاش ملی، جس کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کیں اور آخرکار دو ملزمان تک پہنچ گئی۔
پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت جاوید اقبال کے نام سے ہوئی۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج، جیو فینسنگ اور مخبروں سے حاصل ہونے والی معلومات کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگایا، جس کے بعد محمد ارشد اور اس کے بیٹے محمد ارسلان کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ دورانِ تفتیش دونوں ملزمان نے اعتراف کیا کہ انہوں نے جاوید کو اس لیے قتل کیا کیونکہ وہ ان کے خاندان کی ایک لڑکی سے شادی پر اصرار کر رہا تھا اور مبینہ طور پر اس کی تصاویر عام کرنے کی دھمکی دے رہا تھا۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے 4 اپریل کو جاوید کو مچھلی کے شکار کے بہانے بہلول پور بلایا۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ وہاں اسے قتل کیا گیا۔ بعد ازاں اس کی لاش پھینک دی گئی جبکہ سر کو الگ جگہ دفن کیا گیا۔
یہ واقعہ ایک ایسے ملک میں پیش آیا ہے جہاں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات اب بھی ایک سنگین اور تلخ حقیقت ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق ہر سال ایسے سینکڑوں واقعات سامنے آتے ہیں۔ انسانی حقوق کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2024 میں کم از کم 405 غیرت کے نام پر قتل کے واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں زیادہ تر متاثرین خواتین تھیں۔
یہ پس منظر اس لیے بھی اہم ہے کہ ایسے کئی واقعات میں "غیرت” کی اصطلاح دراصل قتل جیسے سنگین جرم کو جواز دینے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکن طویل عرصے سے کہتے آ رہے ہیں کہ کمزور عملدرآمد، سماجی دباؤ اور بعض اوقات خاندانی حمایت اس سلسلے کو جاری رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں، چاہے گرفتاری عمل میں آ بھی جائے۔
فی الحال فیصل آباد کا یہ مقدمہ قانونی کارروائی کے مراحل سے گزر رہا ہے، اور پولیس کی جانب سے پیش کیا گیا مؤقف ابھی عدالت میں پرکھا جانا باقی ہے۔ تاہم اب تک سامنے آنے والی تفصیلات ہی کافی ہولناک ہیں: ایک لاپتا شخص، سر کے بغیر ملنے والی لاش، اور ایک ایسا محرک جسے تفتیش کار خاندانی کنٹرول اور سماجی بدنامی سے جوڑ رہے ہیں۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جو پاکستان میں پہلے بھی کئی بار سنائی جا چکی ہے۔
