بھارت میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک، گرفتاریوں اور تشدد کے بڑھتے واقعات نے نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو بے نقاب کر دیا ہے بلکہ دنیا کے سامنے بھارت کے سیکولر اور جمہوری تشخص پر بھی گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بھارت کے سیکولر ریاست ہونے کے دعوے ایک بار پھر سوالات کی زد میں آ گئے ہیں، کیونکہ مختلف ریاستوں سے مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک، تشدد اور گرفتاریوں کی نئی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں اقلیتی برادری، خصوصاً مسلمان، منظم انداز میں نشانہ بن رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق کئی علاقوں میں مسلمانوں کے گھروں کو غیر قانونی قرار دے کر مسمار کیا جا رہا ہے، مذہبی اجتماعات پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں اور معمولی واقعات پر گرفتاریوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت اور مقامی انتظامیہ ان واقعات پر چشم پوشی اختیار کر رہی ہیں، جس سے تعصب کے رجحانات مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔
اگرچہ بھارتی آئین مذہبی آزادی اور برابری کی ضمانت دیتا ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ پچھلے چند برسوں میں ہندو انتہا پسندی اور قوم پرستانہ بیانیے کے باعث مسلمانوں کے لیے حالات مزید خراب ہوئے ہیں۔
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقلیتوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرے۔ دوسری جانب بھارت کے اندر سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے اس روش کو نہ بدلا تو عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ بری طرح متاثر ہوگی۔
سوشل میڈیا پر غم و غصے کا اظہار بڑھتا جا رہا ہے اور مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ وقت ہے کہ بھارتی حکومت اپنے سیکولر وعدوں کو حقیقت میں بدلے، ورنہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویٰ محض نعرہ بن کر رہ جائے گا۔
