لبنان کے جنوب میں حضرت عیسیٰؑ کے مجسمے کی توڑ پھوڑ میں ملوث دو اسرائیلی فوجیوں کو سزا دے دی گئی ہے۔ اس واقعے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد نہ صرف لبنان بلکہ مسیحی حلقوں میں بھی شدید ردعمل سامنے آیا، جبکہ اسرائیل کے اندر سے بھی مذمت کی گئی۔ یہ واقعہ سرحدی علاقے کے قریب واقع دبیل نامی گاؤں میں پیش آیا، جو مارونائٹ مسیحی آبادی کے لیے جانا جاتا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق دونوں اہلکاروں کو جنگی ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا ہے اور انہیں 30 دن کی فوجی حراست کی سزا سنائی گئی ہے۔ ایک فوجی پر الزام ہے کہ اس نے مجسمے کو نقصان پہنچایا، جبکہ دوسرے نے اس کی تصویر بنائی۔ فوج نے یہ بھی کہا ہے کہ اس واقعے کے وقت موجود دیگر اہلکاروں کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے، خاص طور پر یہ کہ انہوں نے مداخلت کیوں نہیں کی یا واقعے کی اطلاع کیوں نہیں دی۔
فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ اسے اس واقعے پر “گہرا افسوس” ہے اور اس طرح کا عمل فوجی ضابطوں اور اقدار کے خلاف ہے۔ بعد ازاں اسرائیلی فوج نے یہ بھی بتایا کہ مقامی آبادی سے رابطے کے بعد متاثرہ مجسمہ تبدیل کر دیا گیا ہے۔ فوجی حکام نے زور دیا کہ لبنان میں ان کی کارروائیاں مسلح گروہوں کے خلاف ہیں، نہ کہ شہری آبادی یا مذہبی مقامات کے خلاف۔ لیکن ظاہر ہے، صرف مجسمہ بدل دینے سے معاملہ ٹھنڈا نہیں ہوا۔
اس واقعے پر خاص طور پر کلیسائی حلقوں میں سخت ناراضی دیکھی گئی۔ مقدس سرزمین کے کیتھولک رہنماؤں نے اس عمل کی کھل کر مذمت کی اور اسے ایک ایسے وقت میں نہایت تکلیف دہ قرار دیا جب جنوبی لبنان پہلے ہی جنگ اور عدم استحکام کے دباؤ میں ہے۔ دبیل چونکہ ایک معروف مسیحی بستی ہے، اس لیے مجسمہ حضرت عیسیٰؑ کی بے حرمتی کی تصویر نے مذہبی اور جذباتی سطح پر بہت گہرا اثر ڈالا۔
یہ واقعہ ایک وسیع تر تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ اپریل 2025 میں بھی ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان کے قصبے یارون میں سینٹ جارج کے مجسمے کو پام سنڈے کے روز تباہ کیا تھا۔ اس پس منظر میں موجودہ واقعے نے خدشات کو اور بڑھا دیا ہے کہ آیا یہ صرف چند اہلکاروں کی انفرادی حرکت تھی یا مذہبی مقامات کے تحفظ کے حوالے سے کوئی بڑا مسئلہ موجود ہے۔
اسرائیل کے لیے یہ معاملہ کئی حوالوں سے مشکل بن گیا ہے۔ ایک طرف فوجی نظم و ضبط پر سوال اٹھے ہیں، دوسری طرف یہ واقعہ سفارتی اور مذہبی سطح پر بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ جنگ کے ماحول میں ایسی ایک تصویر بھی عالمی سطح پر تاثر بدل سکتی ہے۔ اور شاید اسی لیے یہ خبر صرف ایک مجسمے کی توڑ پھوڑ تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ جنگ، مذہبی احترام، اور فوجی احتساب سے جڑی ایک بڑی بحث میں بدل گئی۔
