ممبئی — شاہ رخ خان کی 1998 کی بلاک بسٹر فلم ‘کچھ کچھ ہوتا ہے’ میں چھوٹی انجلی کا یادگار کردار نبھانے والی اداکارہ ثنا سعید نے شدید ذہنی و جسمانی عارضے ‘بولیمیا’ (بار بار کھانے اور پھر اسے زبردستی قے کے ذریعے نکالنے کی بیماری) کے خلاف اپنی طویل جنگ کے بارے میں کھل کر بات کی ہے۔ ایک حالیہ انٹرویو میں اداکارہ نے اس سفر کے دوران محسوس ہونے والی شرمندگی، الجھن اور تنہائی کا تذکرہ کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ وہ طویل عرصے تک اسے ایک تسلیم شدہ ذہنی بیماری کے بجائے اپنی ذاتی خامی سمجھتی رہیں۔
ثنا سعید نے بتایا کہ انہوں نے تقریباً چھ سال شدید خاموشی میں گزارے کیونکہ وہ اس عارضے سے بالکل ناواقف تھیں اور سمجھتی تھیں کہ یہ صرف ایک ‘بری عادت’ ہے۔ اداکارہ کے مطابق، ان کی زندگی میں تبدیلی اس وقت آئی جب انہوں نے صحتیابی سے متعلق ایک کتاب پڑھی، جس نے انہیں اپنی اس حالت کو سمجھنے میں مدد دی۔ انہوں نے بتایا کہ اس کتاب کے بعد ان کا اصل علاج شروع ہوا اور مکمل طور پر ٹھیک ہونے میں مزید چار سال لگے۔ ثنا سعید نے واضح کیا کہ وہ اب مکمل طور پر صحتیاب ہو چکی ہیں اور اپنی زندگی اور جسم میں خود کو پہلے سے کہیں زیادہ پرسکون محسوس کرتی ہیں، تاہم وہ اب بھی سوچتی ہیں کہ اگر ان کے بچپن میں اس بیماری سے متعلق آگاہی ہوتی تو ان کا یہ سفر کافی مختلف ہو سکتا تھا۔
