ملک میں ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کی تعداد سامنے آگئی۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کی تعداد سے متعلق تفصیلات پیش کر دی گئیں۔ قومی اسمبلی میں تحریری تفصیلات وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے پیش کی۔
وزیر صحت کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی ایڈز کے تقریباً 84 ہزار421 مریض رجسٹرڈ ہیں اور ایڈز کے مریضوں کو نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت رجسٹرڈ کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ ایڈز کے مریضوں کی زیادہ تعداد پنجاب اور سندھ میں ہے جب کہ 98 علاج مراکز کے ذریعے مفت اینٹی ریڑیو وائرل تھراپی فراہم کی جارہی ہے۔
واضح رہے کہ ایڈز ایک سے دوسرے شخص تک پھیلنے والا مرض ہے، جس کا علاج اب تک دریافت نہیں ہو سکا ہے۔
یہ موذی مرض غیر محفوظ ازدواجی تعلقات، ہم جنس پرستی، استعمال شدہ سرنج، بلیڈ، استرے کا استعمال، دانتوں کے نان اسٹرلائزڈ آلات سمیت دیگر ذرائع ہیں۔
غلط انجیکشن سے ایڈز:
کراچی کے سرکاری اسپتال میں غلط سرنجوں کے استعمال سے 84 مریضوں کو لا علاج اور موذی مرض ایڈز ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
یہ واقعہ ولیکا اسپتال میں ہوا ہے، جہاں گزشتہ برس آنے والے مریضوں کو استعمال شدہ سرنج سے انجکشن لگائے گئے۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ مذکورہ مریض جو مختلف امراض کے علاج کے لیے اسپتال آئے تھے، وہ استعمال شدہ سرنجوں کے استعمال سے لاعلم تھے۔ اسپتال حکام کو جب پتہ چلا تو انہیں تلاش کر کے انہیں مختلف اسپتالوں میں علاج کے لیے منتقل کیا گیا۔
اس حوالے سے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بتایا ولیکا اسپتال میں غلط سرنجیں لگنے سے 84 افراد کو ایڈز کا مرض لاحق ہو گیا۔ جیسے ہی اس کا پتہ چلا تو ڈی جی ہیلتھ کو بھیجا اور متاثرہ لوگوں کو تلاش کر کے ان کے ٹیسٹ کیے گئے اور اب انہیں دوائیں دے رہے ہیں۔
اس سے پہلے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے قائمہ کمیٹی برائے صحت کو بتایا ہے کہ نیشنل ایڈز پروگرام کے تحت فی مریض سالانہ تقریباً 300 سے 500 امریکی ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں۔
