پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز زبردست تیزی دیکھی گئی، جہاں بینچ مارک KSE-100 انڈیکس 1700 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے عالمی سطح پر تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں اور وفاقی بجٹ کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر اعتماد اس تیزی کی بنیادی وجہ ہے۔
کاروباری دن کے وسط تک انڈیکس نے 80,000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبور کر لی۔ اس تیزی میں بینکنگ اور توانائی کے شعبوں نے مرکزی کردار ادا کیا۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی سے پاکستان کے درآمدی بل میں نمایاں کمی متوقع ہے، جس سے ادائیگیوں کے توازن (Balance of Payments) پر دباؤ کم ہوگا۔
کراچی کے ایک معروف بروکر ہاؤس کے سینئر ڈیلر نے بتایا کہ "مارکیٹ میں مہنگائی کے دباؤ میں کمی کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔ تیل سستا ہونے کا مطلب روپے کی قدر میں استحکام ہے، اور یہی وہ اشارہ ہے جس کا سرمایہ کاروں کو انتظار تھا۔”
دوسری جانب، آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی آمد سے قبل کاروباری حلقوں میں امید کی ایک لہر پائی جاتی ہے۔ سرمایہ کاروں کو توقع ہے کہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور آئی ایم ایف کے نئے پروگرام کے حصول کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔ اگرچہ ماہرین حکومتی پالیسیوں کے نفاذ کے حوالے سے تاحال محتاط ہیں، لیکن ٹریڈنگ فلور پر فی الحال تیزی کا رجحان غالب ہے۔
اس تیزی کا اثر صرف ایک شعبے تک محدود نہیں رہا۔ آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی (OGDC) اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (PPL) کے حصص میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ ادارہ جاتی سرمایہ کاروں نے بدلتی ہوئی معاشی صورتحال کے پیش نظر اپنے پورٹ فولیو میں ردوبدل کیا۔
تاہم، معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ بلند شرح سود اور ٹیکس کا تنگ دائرہ کار اب بھی طویل مدتی چیلنجز کے طور پر موجود ہیں۔ فی الحال مارکیٹ کا مزاج اس امید پر قائم ہے کہ حکومت بجٹ میں کفایت شعاری کے بجائے معاشی ترقی کو ترجیح دے گی۔
یہ تیزی بجٹ کی تفصیلات سامنے آنے تک برقرار رہتی ہے یا نہیں، اس کا دارومدار وزیر خزانہ کی جانب سے پیش کیے جانے والے مالیاتی بل کے نکات پر ہوگا۔ فی الحال، سرمایہ کار اعداد و شمار کے مثبت رخ کو دیکھ کر اپنی حکمت عملی ترتیب دے رہے ہیں۔
