اسلام آباد: پاکستان اور برطانیہ نے سلامتی، تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی اصلاحات کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا ہے، جبکہ دونوں جانب سے تعلقات کو ایک زیادہ عملی اور آگے بڑھنے والی شراکت داری میں تبدیل کرنے کی خواہش ظاہر کی گئی۔
یہ بات چیت وزیراعظم شہباز شریف اور برطانیہ کے قومی سلامتی کے مشیر جوناتھن پاول کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں ہوئی۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی، سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ اور قومی سلامتی ڈویژن کے سیکریٹری ساجد بلوچ بھی شریک تھے۔
سرکاری تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان برطانیہ کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط، وسیع اور مستقبل پر مبنی روابط چاہتا ہے۔ انہوں نے برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے ساتھ اپنی حالیہ ٹیلی فونک گفتگو کا بھی حوالہ دیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔
ملاقات میں صرف روایتی سفارتی جملوں پر اکتفا نہیں کیا گیا۔ سلامتی اور علاقائی صورتحال بھی گفتگو کے اہم نکات میں شامل رہے۔ برطانوی قومی سلامتی کے مشیر نے خطے میں مذاکرات اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا۔ اسلام آباد کے لیے یہ بات اہم ہے، کیونکہ پاکستان حالیہ عرصے میں عالمی سطح پر خود کو ایک ذمہ دار اور توازن پیدا کرنے والے ملک کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
جوناتھن پاول نے پاکستان کی معاشی اصلاحات کی کوششوں پر بھی حکومت کو مبارک باد دی اور کہا کہ برطانیہ سلامتی، تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی شعبوں میں تعاون بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ یہ اشارہ ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان اپنی معیشت کو سنبھالنے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے اور بیرونی شراکت داروں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہا ہے کہ اصلاحات کا عمل محض کاغذی کارروائی نہیں بلکہ پالیسی کا مرکزی حصہ ہے۔
پاکستان کے معاشی اصلاحاتی ایجنڈے کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگرام سے بھی تقویت ملی ہے۔ آئی ایم ایف نے 8 مئی 2026 کو پاکستان کے پروگرام کا تیسرا جائزہ مکمل کیا، جس کے بعد پاکستان کے لیے تقریباً 1.1 ارب ڈالر ای ایف ایف کے تحت اور 22 کروڑ ڈالر آر ایس ایف کے تحت فوری اجرا کی منظوری دی گئی۔ آئی ایم ایف کے مطابق اس کے بعد دونوں پروگراموں کے تحت مجموعی اجرا تقریباً 4.8 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
تجارت بھی پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات کا ایک اہم ستون ہے۔ جولائی 2025 میں دونوں ممالک نے پہلا وزارتی سطح کا ٹریڈ ڈائیلاگ منعقد کیا تھا، جس میں تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو ان کی مکمل صلاحیت تک لے جانے پر بات ہوئی۔ اسی عمل کے تحت یوکے-پاکستان بزنس ایڈوائزری کونسل کے قیام پر بھی اتفاق کیا گیا۔ برطانوی حکومت کے مطابق اس وقت دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کی مالیت 4.7 ارب پاؤنڈ تھی۔
برطانیہ کے لیے پاکستان ایک ایسا شراکت دار ہے جسے نظر انداز کرنا آسان نہیں۔ خطے میں اس کی جغرافیائی اہمیت، سلامتی کے معاملات میں کردار، بڑی آبادی، ابھرتی ہوئی منڈی اور برطانیہ میں موجود پاکستانی نژاد کمیونٹی اس تعلق کو ایک خاص وزن دیتی ہے۔ دوسری طرف پاکستان کے لیے برطانیہ سرمایہ کاری، تجارت، تعلیم، ترقیاتی تعاون اور سفارتی حمایت کے حوالے سے ایک اہم ملک ہے۔
ملاقات کے بعد کسی بڑے نئے معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا، مگر دونوں جانب سے جو پیغام سامنے آیا وہ صاف ہے: اسلام آباد اور لندن تعلقات کو صرف رسمی بیانات تک محدود نہیں رکھنا چاہتے۔ اصل امتحان اب یہ ہوگا کہ سلامتی، تجارت اور معاشی اصلاحات پر ہونے والی یہ بات چیت آنے والے مہینوں میں عملی فیصلوں، سرمایہ کاری کے نئے مواقع اور عام پاکستانی کے لیے محسوس ہونے والی معاشی بہتری میں بدلتی ہے یا نہیں۔
