لندن: برطانیہ کی دائیں بازو کی ریفارم یو کے پارٹی نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ اگر وہ اقتدار میں آئی تو وہ دوسری جنگ عظیم کے بعد آبنائے انگلش (چینل) میں سب سے بڑا فوجی آپریشن شروع کر کے تمام پناہ گزینوں کی آمد کو روک دے گی۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پارٹی کو گرتی ہوئی مقبولیت اور فنڈنگ کے حوالے سے سوالات کا سامنا ہے۔
اسپین کے شمالی افریقی انکلیو سیوٹا (Ceuta) میں ہجرت کے بحران کا حوالہ دیتے ہوئے، ریفارم کے رہنما نائجل فراج (Nigel Farage) نے ایک سخت گیر امیگریشن پالیسی کا اعلان کیا، جس کے تحت چھوٹی کشتیوں میں آنے والے پناہ گزینوں کو راستے میں ہی روک کر واپس فرانس بھیج دیا جائے گا۔ پارٹی نے اس پالیسی کا نام "آپریشن فورٹریس” (Operation Fortress) رکھا ہے۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فراج نے دعویٰ کیا کہ ریفارم حکومت کے دو ہفتوں کے اندر کوئی کشتی نہیں آئے گی۔
تاہم، ماہرین اور حریف سیاسی جماعتوں نے اس پالیسی پر شدید تنقید کی ہے۔ ہنری جیکسن سوسائٹی کے سینئر ایسوسی ایٹ فیلو اور سابق پیراٹروپر اینڈریو فوکس نے اس منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ "شاندار لگتا ہے بشرطیکہ آپ بحری جہازوں، ملاحوں، فرانس یا قانون سے بالکل ناواقف ہوں۔” ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ فرانس کی سمندری حدود میں جنگی جہاز نہیں لے جا سکتا اور نہ ہی فرانسیسی اجازت کے بغیر کالے (Calais) میں مسافروں کو اتار سکتا ہے۔
لیبر پارٹی نے الزام لگایا ہے کہ ریفارم پارٹی اپنی مالیاتی بحث سے توجہ ہٹانے کے لیے پرانی امیگریشن پالیسیوں کو نئے انداز میں پیش کر رہی ہے۔ دوسری جانب، برطانوی وزیر اعظم اینڈی برہم (Andy Burnham) نے اتوار کے روز پناہ گزینوں کے خلاف "سخت ترین” کارروائی کا وعدہ کیا، جب نئے اعداد و شمار سے یہ ظاہر ہوا کہ ان کے دو ہفتے قبل منصب سنبھالنے کے بعد سے دو ہزار سے زائد افراد برطانیہ پہنچ چکے ہیں
