پاکستان کے نامور کوہ پیما ساجد علی سدپارہ نے نیپال میں واقع ماؤنٹ مَکالو، جو دنیا کی پانچویں بلند ترین چوٹی ہے، بغیر اضافی آکسیجن سر کر لی ہے۔ پاکستانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق یہ کامیابی اتوار، 3 مئی 2026 کو سامنے آئی، جبکہ مَکالو کی بلندی 8,485 میٹر بتائی گئی ہے۔
یہ کامیابی محض ایک اور summit نہیں سمجھی جا رہی۔ پاکستان ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق مَکالو ساجد سدپارہ کی 8,000 میٹر سے بلند چوٹیوں میں دسویں کامیاب چڑھائی ہے، جو ان کے بڑے ہدف — تمام 14 آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیاں بغیر bottled oxygen سر کرنے — کی طرف ایک اہم قدم ہے۔
ساجد سدپارہ اس سے پہلے مئی 2025 میں دھولاگیری بھی بغیر اضافی آکسیجن اور porter support کے سر کر چکے تھے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق دھولاگیری ان کی نویں آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹی تھی، اور اس مہم کی تصدیق الپائن کلب آف پاکستان نے بھی کی تھی۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ وہ تمام 14 آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کو alpine style میں مکمل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
مَکالو کے بارے میں ہمالین ٹائمز نے اپریل 2026 میں رپورٹ کیا تھا کہ 18 اپریل کو Seven Summit Treks کی rope-fixing ٹیم نے چوٹی تک راستہ کھول دیا تھا، جس کے بعد باقی کوہ پیماؤں کے لیے summit push ممکن ہوئی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ بہاریہ سیزن میں مَکالو پر چڑھائی کے لیے حالات مرحلہ وار سازگار بنائے گئے تھے۔
ساجد سدپارہ کی کوہ پیمائی کو پاکستان میں ایک جذباتی اور تاریخی تناظر میں بھی دیکھا جاتا ہے، کیونکہ وہ مرحوم محمد علی سدپارہ کے صاحبزادے ہیں، جو 2021 میں کے ٹو کی سرمائی مہم کے دوران جان کی بازی ہار گئے تھے۔ گزشتہ برسوں میں ساجد سدپارہ ایورسٹ، اناپورنا اور دھولاگیری سمیت کئی بلند چوٹیوں پر بغیر supplemental oxygen کامیاب چڑھائیاں کر کے اپنی الگ شناخت قائم کر چکے ہیں۔
مَکالو پر یہ کامیابی پاکستان کی کوہ پیمائی برادری کے لیے بھی ایک اہم لمحہ ہے۔ اس سے نہ صرف ساجد سدپارہ کی عالمی سطح پر ساکھ مزید مضبوط ہوئی ہے بلکہ یہ بھی واضح ہوا ہے کہ وہ اب صرف اپنے والد کی میراث کے امین نہیں، بلکہ اپنی ایک نئی اور مضبوط وراثت بھی خود تعمیر کر رہے ہیں۔
