ٹوکیو، جاپان — 21 اکتوبر 2025
جاپان نے اپنی سیاسی تاریخ کا ایک نیا باب رقم کر دیا ہے۔ سناء تاکائچی جاپان کی تاریخ میں پہلی خاتون وزیرِاعظم بن گئی ہیں — ایک ایسی رکاوٹ جو پچھلے پچھتر برسوں سے قائم تھی، بالآخر ٹوٹ گئی۔
تاکائچی، جن کی عمر 63 سال ہے، برسوں سے حکمران لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) کی سینئر رہنما اور سابق وزیرِاعظم شنزو آبے کی قریبی ساتھی سمجھی جاتی ہیں۔ آج پارٹی کے اندر قیادت کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد پارلیمنٹ کے ووٹ نے انہیں جاپان کی 102ویں وزیرِاعظم کے طور پر منتخب کر لیا۔
تاریخی لمحہ برائے جاپان
یہ انتخاب جاپان میں خواتین کی سیاسی نمائندگی کے لیے ایک سنگ میل سمجھا جا رہا ہے، جہاں ترقی یافتہ ممالک میں سب سے کم تعداد میں خواتین سیاست میں دیکھی جاتی ہیں۔ دہائیوں سے مساوی حقوق کے دعووں کے باوجود، جاپان میں کبھی کسی خاتون نے وزارتِ عظمیٰ کا منصب حاصل نہیں کیا تھا — اب تک۔
تاکائچی نے انتخابی کامیابی کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا:
"یہ میرے لیے ایک بڑا اعزاز اور بھاری ذمہ داری ہے۔ میں جاپان کے قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ خواتین کو ہر میدان میں آگے بڑھانے کے لیے بھرپور کوشش کروں گی۔”
ان کی کامیابی کو حامیوں نے "تاریخی چھلانگ” قرار دیا، جبکہ ناقدین نے محتاط امید ظاہر کی کہ آیا ان کی قدامت پسند پالیسیوں سے خواتین کے حقیقی اختیارات میں اضافہ ہوگا یا نہیں۔
آبے کی شاگرد، پالیسیوں میں سخت مؤقف
سناء تاکائچی کو عام طور پر شنزو آبے کی سیاسی شاگرد سمجھا جاتا ہے۔ وہ اپنے قدامت پسند نظریات اور مضبوط قومی سلامتی کے موقف کے لیے مشہور ہیں۔ وہ آئینی اصلاحات، دفاعی قوتوں کو مضبوط بنانے، اور معیشت میں جدت لانے کے حق میں رہی ہیں۔
اپنی مہم کے دوران انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ "جاپان کا وقار اور خوشحالی واپس لائیں گی”۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ غیر یقینی عالمی حالات میں ایک "مضبوط اور پُر اعتماد قیادت” فراہم کریں گی۔
جاپان اور دنیا بھر کا ردِعمل
تاکائچی کی کامیابی پر عالمی ردِعمل فوری آیا۔
امریکی صدر کمالا ہیرس نے مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ "یہ انتخاب جاپان میں ترقی اور شراکت داری کی ایک طاقتور علامت ہے۔”
دوسری جانب چین کے سرکاری میڈیا نے اس پیش رفت کو "تاریخی” قرار دیا مگر جاپان سے "تعمیری سفارت کاری” جاری رکھنے کی اپیل کی۔
جاپان کے اندر عوامی ردِعمل ملی جلی کیفیت کا تھا۔
ٹوکیو کی 29 سالہ آفس ورکر آیاکا کوبایاشی نے کہا،
"آخر کار ایک عورت کو ملک کی قیادت کرتے دیکھنا متاثر کن ہے، لیکن اصل بات یہ ہے کہ وہ عام لوگوں کے مسائل حل کر پاتی ہیں یا نہیں۔”
چیلنجز اور توقعات
تاکائچی کو ایک تقسیم شدہ پارلیمنٹ، سست ہوتی معیشت، اور دفاعی اخراجات پر بڑھتی بحث جیسے بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان کی کامیابی کا دار و مدار اس بات پر ہوگا کہ وہ استحکام اور اصلاحات کے درمیان توازن کیسے قائم کرتی ہیں۔
صوفیہ یونیورسٹی کے پروفیسر کوئچی ناکانو کے مطابق،
"وہ تبدیلی کی علامت ضرور ہیں، لیکن ان کی پالیسیوں کا عملی اثر دیکھنا باقی ہے۔ اگر وہ قدامت پسندی کے ساتھ شمولیتی قیادت کا مظاہرہ کر سکیں تو یہ جاپان کی سیاست کا رخ بدل سکتا ہے۔”
جب سناء تاکائچی نے پارلیمنٹ کے سامنے جھک کر حلف اٹھایا، ایک بات واضح تھی: چاہے ان کی مدت حکومت کتنی بھی پر پیچ کیوں نہ ہو — انہوں نے جاپان کی تاریخ ہمیشہ کے لیے بدل دی ہے۔
