حالیہ طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ موٹاپے کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی وزن کم کرنے والی بعض ادویات خواتین میں چھاتی کے کینسر (Breast Cancer) کے خطرے کو 30 فیصد تک کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
محققین کے مطابق موٹاپا چھاتی کے کینسر سمیت کئی اقسام کے سرطان کے خطرے میں اضافے سے منسلک ہے۔ وزن کم کرنے والی ادویات، خاص طور پر وہ جو جسمانی وزن میں نمایاں کمی لاتی ہیں، نہ صرف موٹاپے پر قابو پانے میں مدد دیتی ہیں بلکہ کینسر سے متعلق بعض حیاتیاتی عوامل کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔
مطالعے میں یہ بات سامنے آئی کہ جن افراد نے وزن کم کرنے کے مؤثر علاج کے ذریعے اپنے جسمانی وزن میں خاطر خواہ کمی کی، ان میں چھاتی کے کینسر کے امکانات نسبتاً کم دیکھے گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وزن میں کمی سے جسم میں سوزش، انسولین کی مزاحمت اور ہارمونز کے عدم توازن جیسے عوامل میں بہتری آتی ہے، جو کینسر کے خطرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
تاہم محققین نے واضح کیا ہے کہ یہ نتائج ابتدائی مطالعات پر مبنی ہیں اور وزن کم کرنے والی ادویات کو فی الحال چھاتی کے کینسر سے بچاؤ کے باقاعدہ علاج کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اس حوالے سے مزید وسیع اور طویل المدتی تحقیقات کی ضرورت ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، صحت مند وزن برقرار رکھنا اور کینسر کی بروقت اسکریننگ اب بھی چھاتی کے کینسر کے خطرے کو کم کرنے کے مؤثر ترین طریقوں میں شامل ہیں۔ انہوں نے مریضوں کو مشورہ دیا ہے کہ وزن کم کرنے کی کسی بھی دوا کا استعمال صرف ڈاکٹر کے مشورے سے کریں۔
