ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یوگا کینسر کے مریضوں اور سروائیورز کے لیے ذہنی دباؤ، بے چینی (Anxiety) اور نیند کی کمی (Insomnia) کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
کینسر کا علاج مکمل ہونے کے بعد بھی بہت سے مریض جسمانی کمزوری، تھکن، ذہنی دباؤ اور نیند کے مسائل کا سامنا کرتے ہیں، جو ان کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے ماہرین نے ایک مخصوص یوگا پروگرام کا مطالعہ کیا جو کینسر سروائیورز کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
اس پروگرام میں ہلکی پھلکی جسمانی ورزشیں، سانس کی مشقیں، مراقبہ (Mindfulness) اور آرام کی تکنیکیں شامل تھیں، جنہیں ایک مختصر مدت تک باقاعدگی سے کروایا گیا۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق یوگا کرنے والے افراد میں نمایاں بہتری دیکھی گئی، جن میں شامل ہیں:
- ذہنی دباؤ اور بے چینی میں کمی
- نیند کے معیار میں بہتری اور بے خوابی میں کمی
- جسمانی تھکن میں کمی
- مجموعی موڈ اور ذہنی سکون میں اضافہ
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یوگا کسی بھی صورت میں کینسر کا علاج نہیں ہے، لیکن یہ ایک معاون تھراپی (Supportive Therapy) کے طور پر مریضوں کی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ان کے مطابق یوگا جیسے ذہنی و جسمانی مشقیں علاج کے دوران اور بعد میں مریضوں کو بہتر طریقے سے صحت یاب ہونے اور روزمرہ چیلنجز سے نمٹنے میں مدد دیتی ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یوگا کو درست طریقے اور ماہر کی نگرانی میں کیا جائے تو یہ زیادہ محفوظ اور مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
محققین کے مطابق یوگا بیماری کا متبادل علاج نہیں، لیکن یہ کینسر کے مریضوں کی مجموعی بہتری اور ذہنی سکون کے لیے ایک مؤثر معاون ذریعہ ضرور ہے۔
