پاکستان میں روزانہ 675 نومولود بچے انتقال کرنے لگے، شیر خوار بچوں کی اونچی شرح پر ڈبلیو ایچ او نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر 675 نومولود بچے اور پیدائش سے 5 سال کی عمر کے ہر ایک ہزار میں سے 56 بچے صحت کے مسائل کا شکار ہو کر موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جب کہ ملک میں سالانہ 1 لاکھ 90 ہزار سے زائد مردہ بچوں کی پیدائش کا اندراج ہوتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور ماہرین صحت اس صورت حال کو تشویش ناک قرار دیتے ہیں۔
پاکستان کا شمار ان 3 ممالک میں ہوتا ہے جہاں نومولود سے لے کر پانچ سال تک کے بچوں کی اموات کی شرح بہت زیادہ ہے، عالمی ادارہ صحت کے مطابق سالانہ 2 لاکھ 45 ہزار 300 بچے غیر تسلی بخش صحت کے مسائل سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔
نجی اسپتال کی حالیہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق نولومود بچوں کی اموات کی وجہ ملک میں 90 فیصد تک حاملہ خواتین میں خون کی کمی کی شکایت ہے، جس کی وجہ سے بچے کمزور اور بیماریوں کا مقابلہ کرنے کی کم قوت مدافعت رکھتے ہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق دیہی اور پس ماندہ علاقوں میں ماوٴں اور بچوں کی صحت کے مراکز کی کمی اور غیر تربیت یافتہ دائیوں کی خدمات ہیں، جو نومولود کی زندگی کو شدید خطرے میں ڈالنے کا سبب بن جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دیہی علاقوں میں قائم بنیادی صحت مراکز میں صرف 45 فیصد دائیاں تربیت یافتہ ہے۔
