کراچی – اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس نے بوٹ بیسن سے گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر گلستان جوہر بلاک 14 میں جعلی کال سینٹر پر کارروائی کرتے ہوئے 12 لیپ ٹاپ برآمد کر لیے۔
پولیس کے مطابق برآمد شدہ لیپ ٹاپ اسپوفنگ کے ذریعے پاکستان اور بیرون ملک مالدار افراد کو کالز کر کے دھمکانے، بلیک میل کرنے اور بھتہ طلب کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔
ایس آئی یو حکام کے مطابق 8 اگست 2025 کو تاجر کو ٹیپو سلطان تھانے کی حدود سے اغوا کر کے 5 کروڑ روپے دینے کے وعدے پر رہا کیا گیا، بعد ازاں ملزمان نے مختلف اوقات میں 80 لاکھ روپے بھتہ وصول کیا۔ واقعے کا مقدمہ 13 اگست کو درج کیا گیا تھا۔
تحقیقات ایس آئی یو کو منتقل ہونے کے بعد 20 اکتوبر کو بوٹ بیسن پولیس نے دو ملزمان طلال افسر عرف میجر ظفر ولد محمد افسر صدیقی اور مبشر گل کو گرفتار کیا۔
ملزم طلال افسر نے تفتیش میں انکشاف کیا کہ وہ اور اس کے ساتھی اسپوفنگ سافٹ ویئر کے ذریعے بھتہ طلب کرتے ہیں۔ اس نے بتایا کہ جعلی کال سینٹرز کا پرانا دھندہ بند ہونے کے بعد انہوں نے جدید طریقہ اختیار کیا ہے، جس میں انٹرنیٹ کے ذریعے کالر آئی ڈی تبدیل کر کے اپنی مرضی کا نمبر ظاہر کیا جاتا ہے تاکہ ٹریس نہ کیا جا سکے۔
ملزم کی نشاندہی پر ایس آئی یو پولیس نے گلستان جوہر بلاک 14 میں کال سینٹر پر چھاپہ مارا، تاہم کال سینٹر کے مالک طلحہ، حفیظ اور معظم موقع سے فرار ہوگئے۔ پولیس نے موقع سے 12 لیپ ٹاپ تحویل میں لے لیے اور دیگر ملزمان شاہ میر، رحمان باجوہ، ہنی بھائی، مگسی، دھکن، زبیر، اسد، سعود اور فراز کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے کا سلسلہ جاری ہے۔
