ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ خوراک کو طویل عرصے تک پلاسٹک کے برتنوں میں فریز کرنا انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق بعض اقسام کے پلاسٹک انتہائی کم درجہ حرارت میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں نہایت باریک پلاسٹک ذرات (مائیکرو پلاسٹکس) خوراک میں شامل ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ مائیکرو پلاسٹکس جسم میں داخل ہو کر مختلف صحت کے مسائل سے منسلک ہو سکتے ہیں، جن میں ہارمونز کے نظام میں خلل، سوزش اور دیگر طویل مدتی طبی پیچیدگیاں شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پلاسٹک کے برتن بار بار استعمال کیے جائیں یا ان میں دراڑیں پڑ جائیں تو خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ خوراک کو محفوظ رکھنے کے لیے شیشے یا فریزر کے لیے منظور شدہ اعلیٰ معیار کے برتن استعمال کیے جائیں۔ اس کے علاوہ فریزر میں رکھنے سے پہلے برتنوں پر درج ہدایات ضرور پڑھنی چاہییں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا وہ کم درجہ حرارت برداشت کرنے کے لیے موزوں ہیں یا نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خوراک کی محفوظ ذخیرہ اندوزی نہ صرف اس کے معیار کو برقرار رکھتی ہے بلکہ صحت کو ممکنہ خطرات سے بھی محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ اس لیے صارفین کو خوراک محفوظ کرتے وقت استعمال ہونے والے برتنوں کے انتخاب میں احتیاط برتنی چاہیے۔
