کراچی: شہرِ قائد میں اتوار کے روز مختلف افسوسناک واقعات پیش آئے، جن میں دو افراد، جن میں ایک 9 سالہ بچہ بھی شامل ہے، ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہوگئے جبکہ تین مختلف علاقوں سے لاشیں ملی ہیں۔
پولیس کے مطابق کورنگی مہران ٹاؤن شیطان چوک کے قریب تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے 65 سالہ راہ گیر غلام اکبر ولد واحد بخش جاں بحق ہوگئے۔ لاش جناح اسپتال منتقل کردی گئی جبکہ حادثے کے ذمہ دار ڈرائیور گاڑی سمیت فرار ہوگیا۔
اسی طرح سپر ہائی وے انارہ گارڈن کے قریب تیز رفتار کار کی ٹکر سے 9 سالہ ماجد علی جاں بحق ہوگیا۔ پولیس نے کار سوار شخص کو گرفتار کر کے گاڑی تحویل میں لے لی۔ لاش عباسی شہید اسپتال منتقل کی گئی۔
دریں اثنا لائنز ایریا کے ایک گھر سے 72 سالہ عبدالقیوم ولد ولی محمد کی لاش ملی۔ پولیس کے مطابق متوفی دل کے مرض میں مبتلا اور اکیلا رہائش پذیر تھا، غالب امکان ہے کہ وہ سیڑھیوں سے گرنے کے باعث جاں بحق ہوا۔
کلفٹن شاہ رسول کالونی کے ایک گھر سے 68 سالہ ارشد محمود ولد محمد عبداللہ کی لاش برآمد ہوئی جو دو روز پرانی تھی۔ پولیس کے مطابق متوفی نیوی سے ریٹائرڈ سیلر اور غیر شادی شدہ تھا۔ پڑوسیوں نے دروازہ نہ کھلنے پر سڑھی لگا کر گھر میں داخل ہوکر دیکھا تو ارشد محمود مردہ حالت میں پایا گیا۔ اہلِ خانہ کے مطابق وہ طویل عرصے سے ذہنی دباؤ کا شکار تھا۔
شاہ لطیف ٹاؤن بس اسٹاپ منزل پمپ کے قریب سڑک سے 18 سالہ مزدور علی رضا ولد اعجاز احمد کی لاش ملی۔ پولیس کے مطابق متوفی پنجاب کا رہائشی اور کراچی میں مزدوری کرتا تھا۔ ورثاء کا کہنا ہے کہ وہ ڈینگی کا شکار تھا جس سے اس کے سفید خلیات کم ہوگئے تھے۔
پولیس نے تمام واقعات کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
