نئے وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی پیر کے روز حفاظتی ضمانت حاصل کرنے کے لیے عدالت میں پیش ہوئے، جہاں ان کی آمد پر صحافیوں اور پارٹی کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ عدالتی کارروائی کے دوران ان کی قانونی ٹیم نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف مقدمہ سیاسی بنیادوں پر قائم کیا گیا ہے اور وہ ہر مرحلے پر اداروں سے تعاون کرتے رہے ہیں۔
سہیل آفریدی سماعت کے دوران خاموش رہے تاہم وہ پورے وقت پُرسکون دکھائی دیے۔
دوسری جانب پارٹی کے اندر اختلافات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ علی امین گنڈا پور کے بعد بعض پی ٹی آئی رہنماؤں نے بھی سہیل آفریدی کی انتظامی حکمت عملی پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق یہ صورتحال اندرونی تناؤ کی نشاندہی کرتی ہے، تاہم معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
سیاسی دباؤ کے باوجود سہیل آفریدی کے حامی پُرامید ہیں کہ وہ جلد قانونی اور پارٹی دونوں محاذوں پر درپیش چیلنجز پر قابو پا لیں گے۔
