عدالتی کارروائی کے ایک اہم موڑ پر وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سمیت خیبرپختونخوا اسمبلی کے پانچ اراکین کو اشتہاری قرار دے دیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ اقدام بار بار طلبی کے باوجود عدالت میں پیش نہ ہونے پر کیا گیا۔
اس فیصلے نے صوبے کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے اور حکمرانی و قانونی جوابدہی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر متعلقہ اراکین عدالتی احکامات کی تعمیل نہیں کرتے تو اس کے دور رس سیاسی اور آئینی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق آئندہ قانونی کارروائی قانون کے مطابق آگے بڑھائی جائے گی۔
