پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ کامیابی سے طے کر لیا ہے، اور حکومت اسے مالی معاونت کے تسلسل اور معاشی استحکام کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دے رہی ہے۔ آئی ایم ایف نے 27 مارچ 2026 کو کہا تھا کہ اس کے عملے اور پاکستانی حکام کے درمیان ملک کے 37 ماہ کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام کے تیسرے جائزے اور 28 ماہ کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے دوسرے جائزے پر اتفاق ہو گیا ہے۔
تاہم اس اصطلاح کو آخری منظوری سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اسٹاف لیول معاہدہ حتمی مرحلہ نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ اب بھی اس کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔ اسی منظوری کے بعد ہی اگلی قسط باقاعدہ طور پر جاری ہو سکے گی۔
اگر آئی ایم ایف کا بورڈ اس پر مہر ثبت کر دیتا ہے تو پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت تقریباً 21 کروڑ ڈالر تک رسائی مل سکتی ہے۔ یوں اس جائزے سے وابستہ مجموعی رقم تقریباً 1.2 ارب ڈالر بنتی ہے۔ آئی ایم ایف نے اپنے بیان میں کہا کہ پروگرام کے تحت پاکستان کی پالیسی عمل درآمد نے معیشت کو مضبوط بنانے اور مارکیٹ کے اعتماد کی بحالی میں مدد دی ہے، اور یہی وہ نکتہ ہے جسے اسلام آباد نمایاں کر رہا ہے۔
یہ معاہدہ ان مذاکرات کے بعد سامنے آیا جو 25 فروری سے 11 مارچ 2026 تک کراچی، اسلام آباد اور آن لائن ذرائع سے جاری رہے۔ ان مذاکرات کی قیادت آئی ایم ایف مشن چیف ایوا پیٹرووا نے کی۔ مارچ کے اوائل میں جاری اپنے مشن کے اختتامی بیان میں آئی ایم ایف نے مالیاتی نظم و ضبط، افراطِ زر میں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر کی بہتری اور اصلاحاتی عمل میں پیش رفت کا ذکر کیا تھا، تاہم اس کے ساتھ یہ بھی واضح کیا تھا کہ پالیسی سطح پر مسلسل احتیاط اور نظم و ضبط اب بھی ضروری ہوگا۔
اس لیے وزیرِ خارجہ کا یہ دعویٰ بنیادی طور پر درست ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ کر لیا ہے۔ لیکن اصل فیصلہ کن مرحلہ ابھی باقی ہے۔ اب سب سے اہم چیز آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری ہے، کیونکہ اسی کے بعد طے ہوگا کہ رقم واقعی پاکستان کو جاری کی جاتی ہے یا نہیں۔
