MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
سیاست

امریکی دھمکیوں کے سائے تلے مذاکرات نہیں ہوں گے، قالیباف

Last updated: اپریل 21, 2026 10:51 صبح
Aqil Rahman
Share
SHARE

ایران کی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تہران امریکا کے ساتھ “دھمکیوں کے سائے تلے” مذاکرات نہیں کرے گا۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ نئے رابطوں کی باتیں ہو رہی ہیں، مگر ساتھ ہی خطے میں کشیدگی، جنگ بندی کی غیر یقینی صورتِ حال اور واشنگٹن کے سخت لب و لہجے نے سفارتی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

قالیباف کا یہ مؤقف دراصل ایران کی حالیہ سرکاری لائن کا تسلسل دکھائی دیتا ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق انہوں نے سوشل پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ امریکا مذاکرات کو یا تو “ہتھیار ڈالنے کی میز” میں بدلنا چاہتا ہے یا پھر نئی جنگی کارروائی کے لیے جواز پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اسی تناظر میں ایرانی قیادت یہ تاثر دے رہی ہے کہ وہ اصولی طور پر بات چیت کے دروازے بند نہیں کر رہی، لیکن دباؤ، دھمکی یا فوجی دباؤ کے ماحول میں کسی پیش رفت کے لیے تیار نہیں۔

اس بیان کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایک طرف مذاکراتی وفد اسلام آباد بھیجنے کا عندیہ دیا، جبکہ دوسری طرف سخت موقف بھی برقرار رکھا۔ برطانوی اور امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر سکتے ہیں، تاہم ایران نے شرکت کی باضابطہ توثیق نہیں کی۔ یہی دوہرا ماحول، یعنی سفارت کاری کی بات بھی اور دباؤ بھی، اس بحران کو مزید الجھا رہا ہے۔

قالیباف اس سے پہلے بھی واشنگٹن پر عدم اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں۔ گزشتہ ہفتے کی رپورٹوں میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت میں ایرانی وفد نے مستقبل سے متعلق تجاویز پیش کیں، مگر تہران کے مطابق امریکا ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اسی پس منظر میں ایرانی مؤقف اب زیادہ واضح نظر آتا ہے: اگر امریکا واقعی پیش رفت چاہتا ہے تو اسے پہلے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ محض دباؤ کی پالیسی نہیں چلا رہا۔

رپورٹس یہ بھی بتاتی ہیں کہ ایران پہلے ہی بعض پیشگی شرائط اور فریم ورک کی خلاف ورزیوں پر اعتراض اٹھا چکا تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق قالیباف نے کہا تھا کہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی تہران کی مجوزہ 10 نکاتی ترتیب کی کئی شقیں متاثر ہو چکی تھیں۔ اس لیے موجودہ بیان کو صرف ایک سخت سیاسی جملہ سمجھنا درست نہیں ہوگا؛ یہ دراصل اس بڑے ایرانی مؤقف کا حصہ ہے جس میں اعتماد، پابندیاں، بحری ناکہ بندی اور علاقائی کشیدگی سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

فی الحال منظرنامہ یہی ہے کہ سفارتی راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا، مگر بہت تنگ ہو چکا ہے۔ جنگ بندی کے خاتمے کے خدشات، آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی، اور دونوں طرف کے سخت بیانات نے مذاکرات کو ایک نازک مرحلے میں پہنچا دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ قالیباف کا بیان محض مذاکراتی دباؤ بڑھانے کی کوشش تھا یا واقعی ایران نے دھمکی اور سفارت کاری کو ایک ساتھ قبول نہ کرنے کی سرخ لکیر کھینچ دی ہے۔

ایران کی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تہران امریکا کے ساتھ “دھمکیوں کے سائے تلے” مذاکرات نہیں کرے گا۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ نئے رابطوں کی باتیں ہو رہی ہیں، مگر ساتھ ہی خطے میں کشیدگی، جنگ بندی کی غیر یقینی صورتِ حال اور واشنگٹن کے سخت لب و لہجے نے سفارتی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

قالیباف کا یہ مؤقف دراصل ایران کی حالیہ سرکاری لائن کا تسلسل دکھائی دیتا ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق انہوں نے سوشل پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ امریکا مذاکرات کو یا تو “ہتھیار ڈالنے کی میز” میں بدلنا چاہتا ہے یا پھر نئی جنگی کارروائی کے لیے جواز پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اسی تناظر میں ایرانی قیادت یہ تاثر دے رہی ہے کہ وہ اصولی طور پر بات چیت کے دروازے بند نہیں کر رہی، لیکن دباؤ، دھمکی یا فوجی دباؤ کے ماحول میں کسی پیش رفت کے لیے تیار نہیں۔

اس بیان کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایک طرف مذاکراتی وفد اسلام آباد بھیجنے کا عندیہ دیا، جبکہ دوسری طرف سخت موقف بھی برقرار رکھا۔ برطانوی اور امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر سکتے ہیں، تاہم ایران نے شرکت کی باضابطہ توثیق نہیں کی۔ یہی دوہرا ماحول، یعنی سفارت کاری کی بات بھی اور دباؤ بھی، اس بحران کو مزید الجھا رہا ہے۔

قالیباف اس سے پہلے بھی واشنگٹن پر عدم اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں۔ گزشتہ ہفتے کی رپورٹوں میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت میں ایرانی وفد نے مستقبل سے متعلق تجاویز پیش کیں، مگر تہران کے مطابق امریکا ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اسی پس منظر میں ایرانی مؤقف اب زیادہ واضح نظر آتا ہے: اگر امریکا واقعی پیش رفت چاہتا ہے تو اسے پہلے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ محض دباؤ کی پالیسی نہیں چلا رہا۔

رپورٹس یہ بھی بتاتی ہیں کہ ایران پہلے ہی بعض پیشگی شرائط اور فریم ورک کی خلاف ورزیوں پر اعتراض اٹھا چکا تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق قالیباف نے کہا تھا کہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی تہران کی مجوزہ 10 نکاتی ترتیب کی کئی شقیں متاثر ہو چکی تھیں۔ اس لیے موجودہ بیان کو صرف ایک سخت سیاسی جملہ سمجھنا درست نہیں ہوگا؛ یہ دراصل اس بڑے ایرانی مؤقف کا حصہ ہے جس میں اعتماد، پابندیاں، بحری ناکہ بندی اور علاقائی کشیدگی سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

فی الحال منظرنامہ یہی ہے کہ سفارتی راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا، مگر بہت تنگ ہو چکا ہے۔ جنگ بندی کے خاتمے کے خدشات، آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی، اور دونوں طرف کے سخت بیانات نے مذاکرات کو ایک نازک مرحلے میں پہنچا دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ قالیباف کا بیان محض مذاکراتی دباؤ بڑھانے کی کوشش تھا یا واقعی ایران نے دھمکی اور سفارت کاری کو ایک ساتھ قبول نہ کرنے کی سرخ لکیر کھینچ دی ہے۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article سعودی عرب سے پاکستان کو 2 ارب ڈالر موصول، مزید مالی تعاون کی توقع سعودی عرب سے پاکستان کو 2 ارب ڈالر موصول، مزید مالی تعاون کی توقع
Next Article دی اونین کی انفووَرز کو طنزیہ ویب سائٹ بنانے کی نئی کوشش دی اونین کی انفووَرز کو طنزیہ ویب سائٹ بنانے کی نئی کوشش
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
ملک بھر میں خشک سالی کا اعلان: پانی کے استعمال پر سخت پابندیاں نافذ
ملک بھر میں خشک سالی کا اعلان: پانی کے استعمال پر سخت پابندیاں نافذ
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
اگست 18, 2026
ایل نینو کی واپسی: عالمی موسم میں بڑی تبدیلیوں کا خطرہ
ایل نینو کی واپسی: عالمی موسم میں بڑی تبدیلیوں کا خطرہ
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
اگست 18, 2026
روزبینک آئل فیلڈ: عوامی مشاورت کا اختتام، حکومت پر موسمیاتی دباؤ میں اضافہ
روزبینک آئل فیلڈ: عوامی مشاورت کا اختتام، حکومت پر موسمیاتی دباؤ میں اضافہ
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
اگست 18, 2026
جہاں سمندری لہروں سے مقابلہ: نوجوان ملاحوں کا امتحان
جہاں سمندری لہروں سے مقابلہ: نوجوان ملاحوں کا امتحان
تازہ ترین کھیل
اگست 18, 2026
موسمیاتی تباہ کاریاں اور معیشت: ایک نیا اور مہنگا بحران
موسمیاتی تباہ کاریاں اور معیشت: ایک نیا اور مہنگا بحران
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
اگست 18, 2026
سعودی عرب: پانی کے ضیاع پر 2 لاکھ ریال تک جرمانہ عائد
سعودی عرب: پانی کے ضیاع پر 2 لاکھ ریال تک جرمانہ عائد
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
اگست 18, 2026

You Might Also Like

سیاست

روس کا غزہ پر اسرائیلی حملوں کو شہری آبادی کی ’اجتماعی سزا‘ قرار دینا

By Hannan Khani
کوٹلی میں انتخابی جھڑپ: اے جے کے الیکشن کے پہلے مرحلے میں ہلاکت اور دھاندلی کے الزامات
تازہ ترینسیاست

کوٹلی میں انتخابی جھڑپ: اے جے کے الیکشن کے پہلے مرحلے میں ہلاکت اور دھاندلی کے الزامات

By Ayesha Masood
سیاست

مولانا فضل الرحمٰن کا پارلیمنٹ کو غیر مؤثر قرار، کارکنوں کو اسلام آباد مارچ کی تیاری کی ہدایت

By Hafeez Alam Ghazi
سیاست

وفاقی حکومت کا بی آئی ایس پی کو صوبوں کے حوالے کرنے پر غور

By Ayan Ahmed
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?