جنوبی امریکا کے پہاڑی سلسلے اینڈیز میں ہونے والی شدید آتش فشانی سرگرمی نے لاکھوں سال پہلے صرف خشکی ہی نہیں، بلکہ سمندروں کے نظام کو بھی بدل دیا تھا۔ ایک نئی سائنسی تحقیق کے مطابق لیٹ مایوسین دور، یعنی تقریباً 80 لاکھ سے 40 لاکھ سال پہلے، اینڈیز سے اٹھنے والی راکھ جنوبی بحر کے پانیوں تک پہنچی، جہاں اس میں موجود آئرن، فاسفورس اور سلیکان جیسے غذائی اجزا نے سمندری حیات کی افزائش کو تیز کر دیا۔ محققین کہتے ہیں کہ اس عمل نے فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کم کرنے میں بھی کردار ادا کیا، جس سے عالمی درجہ حرارت میں کمی آئی۔
یہ تحقیق جریدے Communications Earth & Environment میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں ماہرین نے فوسلز، کیمیائی شواہد، راکھ کے پھیلاؤ کے ماڈلز اور موسمیاتی نظام کے کمپیوٹر ماڈلز کو یکجا کر کے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سینٹرل اینڈیز میں آتش فشانی سرگرمی خاص طور پر لیٹ مایوسین دور میں بہت تیز تھی۔ محققین کے مطابق اس دور میں آتش فشانی راکھ بار بار جنوبی بحر تک پہنچی اور وہاں ایک طرح سے قدرتی کھاد کا کام کرتی رہی۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جنوبی بحر کے کئی حصوں میں آئرن کی کمی رہتی ہے، جبکہ یہی عنصر فائٹوپلینکٹن کی افزائش کے لیے نہایت اہم ہے۔ جب آتش فشانی راکھ کے ذریعے یہ کمی پوری ہوئی تو سمندر میں حیاتیاتی پیداوار بڑھی۔ اس کے نتیجے میں زیادہ مقدار میں کاربن فضا سے جذب ہو کر گہرے سمندر میں منتقل ہوا۔ یہی عمل طویل مدت میں زمین کے موسم پر اثر ڈال سکتا ہے۔
تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اینڈیز کی آتش فشانی سرگرمی شاید سمندری ماحولیاتی نظام میں بڑی تبدیلیوں کی ایک گمشدہ کڑی تھی۔ یونیورسٹی آف ایریزونا کے مطابق 50 لاکھ سے 80 لاکھ سال پہلے سمندری حیات میں جو ڈرامائی تبدیلیاں دیکھی گئیں، جن میں بعض علاقوں میں وہیل کی بڑی تعداد میں ہلاکتیں بھی شامل ہیں، ان کے پس منظر میں یہی آتش فشانی راکھ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے غذائی اجزا ہو سکتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ معاملہ سیدھا سادہ نہیں تھا، بلکہ غالباً راکھ نے الجی کی افزائش، خوراکی زنجیر میں تبدیلی اور سمندری ماحول میں وسیع الاثر اتار چڑھاؤ کو جنم دیا۔
ماہرین کے مطابق اس پورے عمل میں صرف ایک بڑا دھماکا اہم نہیں تھا، بلکہ بار بار ہونے والے آتش فشانی واقعات نے زیادہ پائیدار اثرات پیدا کیے۔ اگر راکھ وقفے وقفے سے مسلسل سمندر تک پہنچتی رہی ہو تو اس سے سمندری پیداوار بھی زیادہ دیر تک برقرار رہ سکتی تھی اور فضا سے کاربن کے اخراج میں کمی کا اثر بھی نسبتاً طویل ہو سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تحقیق آتش فشانی سرگرمی کو صرف تباہی کے تناظر میں نہیں دیکھتی، بلکہ اسے زمین کے قدیم موسمی نظام پر اثر انداز ہونے والے ایک اہم قدرتی عنصر کے طور پر پیش کرتی ہے۔
البتہ محققین احتیاط بھی برت رہے ہیں۔ چونکہ یہ سب واقعات لاکھوں سال پہلے پیش آئے، اس لیے نتائج براہ راست مشاہدے پر نہیں بلکہ ارضیاتی، کیمیائی اور حیاتیاتی شواہد کی بنیاد پر اخذ کیے گئے ہیں۔ اس کے باوجود مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والے شواہد ایک دوسرے کی تائید کرتے ہیں، جس سے اس نظریے کو خاصا وزن ملتا ہے۔
اس تحقیق کا بڑا سبق شاید یہی ہے کہ زمین کی تاریخ میں بڑے ماحولیاتی اور موسمیاتی موڑ اکثر ایک ہی وجہ سے نہیں آتے۔ کبھی پہاڑوں میں پھٹنے والا آتش فشاں ہزاروں کلومیٹر دور سمندروں کی زندگی بدل دیتا ہے، اور وہی تبدیلی بالآخر عالمی موسم تک پر اثر ڈالتی ہے۔ اینڈیز کے قدیم آتش فشاں شاید اسی پیچیدہ کہانی کا ایک اہم باب تھے۔
