لاہور کی ایک عدالت نے جمعہ کے روز تین کمسن بچوں کے قتل کے الزام میں گرفتار خاتون کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں جس نے شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ملزمہ، جسے مقامی رپورٹس میں ردا فاطمہ کے نام سے شناخت کیا گیا ہے، کو ماڈل ٹاؤن کچہری میں جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔ پولیس نے مزید تفتیش، میڈیکل معائنہ اور دیگر تحقیقاتی اقدامات کے لیے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی تھی۔
یہ واقعہ 23 اپریل کو سامنے آیا جب پولیس اور ریسکیو اہلکاروں نے لاہور کے علاقے شاہ جمال/اچھرہ میں ایک گھر سے تین بچوں کی لاشیں ملنے کی اطلاع پر کارروائی کی۔ مقامی رپورٹس کے مطابق بچوں کی شناخت پانچ سالہ مومینہ بتول، چار سالہ مومن رضا اور ایک تقریباً ڈیڑھ سالہ بچی کے طور پر ہوئی۔ ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا کہ بچوں کی گردن پر مہلک زخم تھے اور لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں شبہ بچوں کی والدہ پر ظاہر کیا گیا ہے، اور بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ دورانِ تفتیش اس نے مبینہ طور پر اعترافِ جرم کیا۔ حکام نے واقعے کی ممکنہ وجہ گھریلو تنازع کو قرار دیا ہے۔ ڈان کے مطابق پولیس نے میاں بیوی کے درمیان کشیدہ تعلقات کا ذکر کیا، جبکہ جیو کے مطابق ملزمہ نے ابتدا میں سسرالیوں پر الزام لگایا اور بعد میں بچوں کی ولدیت سے متعلق تنازعات کا حوالہ دیا۔ تاہم یہ تمام دعوے ابھی تفتیش کا حصہ ہیں اور عدالت میں ثابت نہیں ہوئے۔
جیو کی ایک رپورٹ کے مطابق پولیس ایک اور پہلو کی بھی تفتیش کر رہی ہے جس میں ملزمہ کے جھنگ میں ایک شخص سے مبینہ روابط شامل ہیں، جن میں فون ریکارڈز، واٹس ایپ گفتگو اور مالی لین دین کی جانچ کی جا رہی ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام معلومات ابتدائی نوعیت کی ہیں اور ابھی تصدیق ہونا باقی ہے۔
عدالت نے 25 اپریل کو پولیس کی 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے پانچ روزہ ریمانڈ منظور کیا اور حکم دیا کہ ملزمہ کو 29 اپریل کو دوبارہ پیش کیا جائے۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ انہیں تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ درکار ہے، جس میں پولی گراف اور میڈیکل ٹیسٹ بھی شامل ہیں۔
واقعے نے پنجاب بھر میں شدید ردعمل پیدا کیا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے رپورٹ طلب کی ہے۔ فی الحال اصل سوالات، خصوصاً محرکات، تفتیش کے مرحلے میں ہیں اور حتمی نتائج عدالتی کارروائی اور فرانزک رپورٹوں پر منحصر ہوں گے۔
