سانتا مارٹا، کولمبیا: 50 سے زائد ممالک اس ہفتے کولمبیا میں ایک ایسے بین الاقوامی اجلاس میں شریک ہیں جس کا مقصد کوئلہ، تیل اور گیس جیسے فوسل فیولز سے مرحلہ وار انخلا (phaseout) پر حکمتِ عملی پر بات چیت کرنا ہے۔ یہ اجلاس موسمیاتی تبدیلی سے متعلق کوششوں کے سلسلے میں اقوام متحدہ کے رسمی مذاکراتی عمل سے باہر ایک اہم اقدام سمجھا جا رہا ہے۔ یہ کانفرنس کولمبیا اور نیدرلینڈز کی مشترکہ میزبانی میں 24 سے 29 اپریل تک سانتا مارٹا میں جاری ہے۔
اجلاس میں حکومتیں اور دیگر شرکاء توانائی کے ایسے راستوں پر غور کر رہے ہیں جن کے ذریعے فوسل فیولز پر انحصار کم کیا جا سکے۔ منتظمین کے مطابق اس کا مقصد “منصفانہ منتقلی” (just transition) کے لیے تعاون بڑھانا ہے، تاکہ ماحولیاتی اہداف کے ساتھ ساتھ معاشی اور سماجی اثرات کو بھی مدنظر رکھا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ اس اجلاس میں شریک نہیں ہے، جبکہ کچھ دیگر بڑے فوسل فیول پیدا کرنے والے ممالک بھی اس میں شامل نہیں ہیں۔ تاہم یہ فورم ان ممالک اور اداروں کے لیے کھلا ہے جو توانائی کے عالمی نظام میں تبدیلی اور فوسل فیولز سے بتدریج انخلا کی حمایت کرتے ہیں۔
شرکاء کی تعداد کے حوالے سے مختلف اندازے سامنے آئے ہیں۔ کچھ رپورٹس کے مطابق تقریباً 50 ممالک شریک ہیں، جبکہ دیگر تخمینوں میں، اضافی شرکاء کو شامل کرتے ہوئے، یہ تعداد 60 سے زائد بتائی گئی ہے۔
یہ مذاکرات کسی پابند عالمی معاہدے کے لیے نہیں ہیں بلکہ ان کا مقصد مختلف ممالک کے درمیان پالیسی تجربات شیئر کرنا اور توانائی کی منتقلی کے لیے سیاسی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں، رسد کے مسائل اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کی وجہ سے فوسل فیولز سے انخلا کی کوششیں مزید پیچیدہ ہو گئی ہیں۔
