MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
سیاست

غزہ جانے والے امدادی بحری قافلے پر کارروائی، اسرائیل کا 175 کارکنوں کی گرفتاری کا دعویٰ

Last updated: اپریل 30, 2026 1:46 شام
Aqil Rahman
Share
SHARE

اسرائیلی فوج نے جمعرات کی صبح غزہ جانے والے امدادی بحری قافلے کے ایک حصے کو یونان کے جزیرے کریٹ کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں روک لیا، جس کے بعد 20 سے زائد کشتیوں پر سوار کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ تقریباً 175 کارکنوں کو اسرائیل منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ منتظمین نے اس کارروائی کو غزہ سے بہت دور شہریوں کے خلاف طاقت کے استعمال کے مترادف قرار دیا۔

یہ قافلہ، جسے گلوبل صمود فلوٹیلا کہا جا رہا ہے، رواں ماہ کے آغاز میں بارسلونا سے روانہ ہوا تھا۔ منتظمین کے مطابق اس کا مقصد ایک طرف غزہ کے لیے انسانی امداد پہنچانا تھا اور دوسری طرف وہاں جاری انسانی بحران پر عالمی توجہ دوبارہ مرکوز کرانا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اس مہم میں 70 سے زیادہ کشتیاں اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے لگ بھگ ایک ہزار افراد شامل تھے، جبکہ سفر کے دوران مزید کشتیاں بھی اس میں شامل ہوئیں۔

رات بھر ہونے والی یہ کارروائی متضاد دعوؤں کے بیچ گھری رہی۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے اس وقت مداخلت کی جب قافلہ ابھی غزہ سے سینکڑوں میل دور تھا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق گروپ کے جاری کردہ ٹریکر سے ظاہر ہوا کہ جمعرات کی صبح تک 22 کشتیوں کو کریٹ کے مغرب میں روک لیا گیا تھا جبکہ 36 مزید کشتیاں ابھی سفر میں تھیں۔

اسرائیل نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے ایک بار پھر غزہ کی بحری ناکہ بندی کا حوالہ دیا ہے۔ اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ 2007 میں حماس کے غزہ پر کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے نافذ یہ پابندیاں اس لیے ہیں تاکہ اسلحہ اور جنگی سامان غزہ نہ پہنچ سکے۔ دوسری جانب امدادی کارکنوں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ناکہ بندی غزہ کے عام شہریوں کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خوراک، ادویات اور بنیادی ضروریات کی شدید قلت برقرار ہے۔

قافلے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اس مشن کی نوعیت صرف امدادی نہیں بلکہ علامتی بھی تھی۔ ان کے بقول مقصد یہ بتانا تھا کہ غزہ میں انسانی صورتحال بدستور سنگین ہے اور محدود امدادی رسائی اس بحران کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ اے پی کے مطابق اس وقت امداد کا صرف محدود حصہ ایک اسرائیلی کنٹرول والے راستے سے اندر جا رہا ہے، اور اسی وجہ سے ایسے بحری مشن بار بار سامنے آتے رہے ہیں، حالانکہ ان میں رکاوٹ اور گرفتاری کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔

اس واقعے پر ترکی نے سخت ردِعمل دیا۔ ترک وزارتِ خارجہ نے اس کارروائی کو “قزاقی” قرار دیا اور کہا کہ یہ قدم انسانی اصولوں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ ترک حکام کے مطابق وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے اس معاملے پر اپنے ہسپانوی ہم منصب سے بھی رابطہ کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ واقعہ جلد ہی ایک وسیع سفارتی تنازع میں بدل گیا۔

یونان میں بھی اس پر تنقید سامنے آئی۔ ایتھنز میں سرگرم کارکنوں نے دعویٰ کیا کہ کارروائی ایسے سمندری علاقے میں ہوئی جہاں تلاش و بچاؤ کی ذمہ داری یونان پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے مطابق یونانی حکام نے مداخلت نہیں کی، جس کے خلاف یونانی وزارتِ خارجہ کے باہر احتجاج کی بھی کال دی گئی۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب غزہ پہلے ہی شدید انسانی دباؤ کا شکار ہے۔ اے پی کے مطابق غزہ کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ چھ ماہ پرانی جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں میں 790 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں، جبکہ جنگ کے آغاز سے اب تک مجموعی فلسطینی ہلاکتیں 72,300 تک پہنچ چکی ہیں۔ دوسری طرف 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں اسرائیل میں تقریباً 1,200 افراد مارے گئے تھے، جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔ یہی اعداد و شمار اس پورے تنازع، ناکہ بندی، اور غزہ تک امداد پہنچانے کے طریقۂ کار پر جاری عالمی بحث کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ اسی نیٹ ورک کی جانب سے ایسا بحری مشن بھیجا گیا ہو۔ اس سے پہلے بھی ایک کوشش روک دی گئی تھی، اور اسرائیلی حکام پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ وہ ایسے کسی قافلے کو بحری ناکہ بندی توڑنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ستمبر 2025 میں اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس طرح کے قافلوں کو غیر قانونی سمجھا جاتا ہے، اور اگر امداد پہنچانا مقصود ہو تو اسے اشکلون کے ذریعے باقاعدہ نگرانی میں غزہ منتقل کیا جا سکتا ہے۔

فی الحال صورتحال پوری طرح واضح نہیں۔ کچھ کارکن اسرائیلی تحویل میں پہنچ چکے ہیں، کئی کشتیاں روکی جا چکی ہیں، جبکہ کچھ اب بھی سمندر میں موجود ہیں۔ تاہم ایک بات واضح ہے: غزہ کی جنگ اور انسانی بحران کے اثرات اب صرف غزہ کی سرحدوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ بحیرۂ روم کے وسط تک پھیل چکے ہیں۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article کراچی: گلستانِ جوہر میں آن لائن ٹیکسی ڈرائیور قتل، مزاحمت پر گولی مار دی گئی
Next Article سائبر کرائم مقدمات نمٹانے کے لیے پنجاب پولیس کا نیا یونٹ قائم
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
امریکی محکمہ انصاف نے تعلیمی اداروں میں سام دشمنی کی تحقیقات سے متعلق الزامات مسترد کر دیے
امریکی محکمہ انصاف نے تعلیمی اداروں میں سام دشمنی کی تحقیقات سے متعلق الزامات مسترد کر دیے
تازہ ترین سیاست
اگست 19, 2026
امریکی ایس ای سی کی کرپٹو مارکیٹ پر گرفت سخت کرنے کی نئی کوشش
امریکی ایس ای سی کی کرپٹو مارکیٹ پر گرفت سخت کرنے کی نئی کوشش
تازہ ترین کاروبار اور تجارت
اگست 19, 2026
سمندری فرش پر کان کنی کے خلاف ماحولیاتی تنظیموں کا عدالتی چیلنج
سمندری فرش پر کان کنی کے خلاف ماحولیاتی تنظیموں کا عدالتی چیلنج
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
اگست 19, 2026
جنوبی الخلیل کی غاریں: ایک قدیم تاریخ اور بے دخلی کا خوف
جنوبی الخلیل کی غاریں: ایک قدیم تاریخ اور بے دخلی کا خوف
international تازہ ترین
اگست 19, 2026
اسرائیلی فضائیہ کا شام کے فوجی اڈے پر حملہ، امریکہ کی ناراضگی میں اضافہ
اسرائیلی فضائیہ کا شام کے فوجی اڈے پر حملہ، امریکہ کی ناراضگی میں اضافہ
international تازہ ترین
اگست 19, 2026
نقاب پوش شخص کی رہائشی علاقے میں گھات، خوفناک ویڈیو سامنے آگئی
نقاب پوش شخص کی رہائشی علاقے میں گھات، خوفناک ویڈیو سامنے آگئی
تازہ ترین عدالت اور جرائم
اگست 19, 2026

You Might Also Like

سیاست

کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے، بلاول بھٹو

By Abdul Saboor
سیاست

نئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی حفاظتی ضمانت کیلئے عدالت پہنچ گئے

By Aiza Uddin
سیاست

لندن میں آبنائے ہرمز مشن پر برطانیہ اور فرانس کے فوجی مذاکرات

By Hakeem Ullah
آزاد کشمیر انتخابات: پونچھ ڈویژن میں پولنگ کا شیڈول تبدیل نہیں ہوگا
تازہ ترینسیاست

آزاد کشمیر انتخابات: پونچھ ڈویژن میں پولنگ کا شیڈول تبدیل نہیں ہوگا

By Ayesha Masood
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?