راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر منگل 5 مئی 2026 کو ایک بار پھر وہی منظر دیکھنے میں آیا: عمران خان کی بہنیں اور پی ٹی آئی کے چند رہنما ملاقات کے لیے پہنچے، مگر جیل حکام نے انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی۔ تازہ رپورٹس کے مطابق علیمہ خان، عظمیٰ خان اور دیگر پارٹی رہنماؤں کو ملاقات سے روک دیا گیا، جس پر خاندان اور پارٹی نے اسے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی اور بنیادی حقوق کی پامالی قرار دیا۔
علیمہ خان کا مؤقف یہ رہا ہے کہ یہ مسئلہ محض ایک دن یا ایک ملاقات کا نہیں، بلکہ کئی ہفتوں اور مہینوں سے بار بار یہی ہو رہا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے اس سے پہلے بھی کہا تھا کہ اہلِ خانہ جیل گیٹ تک پہنچتے ہیں، حاضری بھی ریکارڈ ہو جاتی ہے، مگر بعد میں یہ تاثر دیا جاتا ہے جیسے وہ آئے ہی نہیں۔ اسی تناظر میں “عوامی دباؤ” کی اپیل دراصل اس مسلسل شکایت کا تسلسل معلوم ہوتی ہے کہ عدالتی حکم موجود ہونے کے باوجود عملی طور پر ملاقاتیں رکوائی جا رہی ہیں۔
اس معاملے کی قانونی بنیاد بھی خاصی اہم ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 24 مارچ 2025 کو عمران خان کی ہفتے میں دو بار ملاقاتوں کا حق بحال کیا تھا، اور بعد میں عدالت نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو اس حکم پر عمل درآمد کی ہدایت بھی دی۔ بعض رپورٹس کے مطابق عدالتی ترتیب میں منگل اور جمعرات کو ملاقات کے دن قرار دیا گیا تھا، جبکہ ملاقات کے بعد میڈیا ٹاک پر پابندی بھی لگائی گئی تھی۔ اس کے باوجود عملی سطح پر خاندان، وکلا اور پارٹی رہنماؤں کی بارہا شکایت رہی ہے کہ حکم کے باوجود رسائی نہیں دی جا رہی۔
یہ تازہ واقعہ کسی الگ تھلگ کشیدگی کا حصہ نہیں، بلکہ اڈیالہ جیل کے باہر بڑھتی ہوئی ایک طویل محاذ آرائی کا تسلسل ہے۔ رواں برس جنوری، اپریل اور پھر بعد کے ہفتوں میں بھی ایسی رپورٹس سامنے آئیں کہ عمران خان کی بہنوں کو ملاقات سے روکا گیا، کبھی دھرنا دیا گیا، کبھی کارکنوں اور رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا، اور کبھی احتجاج کو سکیورٹی پابندیوں کے تحت ختم کرا دیا گیا۔ اس تسلسل نے پی ٹی آئی کو یہ مؤقف اختیار کرنے کا موقع دیا کہ معاملہ صرف جیل انتظامیہ کا نہیں بلکہ ایک بڑے سیاسی اور انتظامی رویے کی عکاسی کرتا ہے۔
پس منظر میں عمران خان کی صحت اور ان تک رسائی کا سوال بھی بار بار اٹھتا رہا ہے۔ بین الاقوامی اور مقامی رپورٹس کے مطابق ان کی آنکھ کے مسئلے، طبی معائنے اور محدود رسائی کے معاملات نے خاندان اور پارٹی کی بے چینی میں اضافہ کیا۔ اسی لیے جب ملاقات دوبارہ روکی جاتی ہے تو یہ معاملہ محض سیاسی علامت نہیں رہتا، بلکہ اہلِ خانہ اسے صحت، قانونی دفاع اور انسانی حقوق سے جوڑ کر پیش کرتے ہیں۔
فی الحال سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کیا تازہ انکار کے بعد عدالت دوبارہ سخت مداخلت کرے گی یا یہ معاملہ پھر سیاسی احتجاج کی طرف جائے گا۔ 4 مئی 2026 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے £190 ملین کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے مرکزی اپیلیں 7 مئی کے لیے مقرر کیں، جس سے واضح ہے کہ قانونی محاذ بھی اسی وقت غیرمعمولی طور پر گرم ہے۔ اڈیالہ جیل ملاقاتوں کا تنازع اب صرف انتظامی مسئلہ نہیں رہا؛ یہ ریاست، عدلیہ اور اپوزیشن کے درمیان اعتماد کے بحران کی ایک اور نمایاں علامت بنتا جا رہا ہے۔
