کولمبو — سری لنکا نے غیر ملکیوں کے ذریعے چلائے جانے والے مبینہ سائبر فراڈ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی مزید تیز کر دی ہے، اور پولیس کے مطابق تازہ دو روزہ کریک ڈاؤن میں 130 سے زائد غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا گیا۔ یہ چھاپے کولمبو کے مضافاتی علاقوں میں مارے گئے، جہاں حکام کا کہنا ہے کہ آن لائن دھوکا دہی اور سرحد پار سائبر جرائم کے منظم مراکز چل رہے تھے۔
حالیہ کارروائیوں میں ایک اہم چھاپہ راجاگیریا کے ایک اپارٹمنٹ کمپلیکس میں مارا گیا، جہاں مقامی رپورٹوں کے مطابق تقریباً 120 غیر ملکی حراست میں لیے گئے۔ ان میں چین، ویتنام، ملائیشیا، مڈغاسکر، فلپائن، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے شہری شامل بتائے گئے۔ پولیس نے وہاں سے لیپ ٹاپ، موبائل فون اور دیگر الیکٹرانک آلات بھی قبضے میں لیے، جن کا فرانزک جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اسی سلسلے میں تھالنگاما کے علاقے میں ایک اور کارروائی کے دوران 37 چینی شہری گرفتار کیے گئے۔ رپورٹس کے مطابق ان میں ایک خاتون بھی شامل تھی، جبکہ گرفتار افراد کی عمریں تقریباً 23 سے 44 برس کے درمیان بتائی گئیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایک خفیہ اطلاع کے بعد کی گئی اور شبہ ہے کہ وہاں ایک مبینہ سائبر اسکام سینٹر چل رہا تھا۔
یہ تازہ گرفتاریاں کسی ایک الگ واقعے کا حصہ نہیں لگتیں، بلکہ ایک بڑے سلسلے کی کڑی ہیں۔ مارچ میں انورادھا پورا اور مہینتلے میں کارروائیوں کے دوران 134 غیر ملکی گرفتار کیے گئے تھے، جبکہ اپریل میں چلاو کے ایک ہوٹل پر چھاپے میں 152 افراد پکڑے گئے، جن میں اکثریت چینی شہریوں کی تھی۔ اس کارروائی میں بڑی تعداد میں کمپیوٹر، موبائل فون اور دیگر ڈیوائسز بھی ضبط کی گئی تھیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ نیٹ ورکس کافی منظم طریقے سے کام کر رہے تھے۔
سری لنکن حکام اب اس معاملے کو صرف عام مالی فراڈ نہیں، بلکہ امیگریشن خلاف ورزی، غیر قانونی رہائش، اور قومی سلامتی کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں۔ مقامی رپورٹوں کے مطابق پولیس نے جائیداد مالکان کو بھی خبردار کیا ہے کہ اگر وہ ویزا اووراسٹے کرنے والے یا مشکوک سرگرمیوں میں ملوث غیر ملکیوں کو رہائش فراہم کریں گے تو ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔
اس تمام پس منظر میں ایک بات واضح ہو رہی ہے: سری لنکا اب اپنے آپ کو ایسے ملک کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہتا جہاں بیرونی جرائم پیشہ نیٹ ورکس آسانی سے ڈیجیٹل دھوکا دہی کے اڈے قائم کر سکیں۔ مگر ساتھ ہی یہ سوال باقی ہے کہ ان گرفتاریوں کا انجام کیا ہوگا — آیا مقدمات چلیں گے، سزائیں ہوں گی، یا کچھ افراد کو امیگریشن خلاف ورزیوں کی بنیاد پر ملک بدر کر دیا جائے گ.
موجودہ قابلِ اعتماد رپورٹنگ میں مجھے “231 غیر ملکیوں” کی تعداد تازہ ترین سری لنکن کارروائی کے لیے تصدیق شدہ طور پر نہیں ملی۔ سب سے زیادہ مسلسل رپورٹ ہونے والا عدد 130 سے زائد ہے، جبکہ کولمبو کے حالیہ دو چھاپوں کو ملا کر بعض مقامی رپورٹس میں تقریباً 157 گرفتاریوں کا ذکر ہے۔ اس لیے سرخی میں دی گئی 231 کی تعداد کو میں اس وقت مصدقہ نہیں کہہ سکتا۔
