اسکول آف کنٹیمپریری اینڈ اسلامک لرننگ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ ادارے نے شدید گرمی اور گرمیوں کی تعطیلات کے باوجود امتحانات کا سلسلہ جاری رکھا، جس پر والدین اور طلبہ نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
طلبہ اور والدین کے مطابق تعلیمی ادارے کی جانب سے تعطیلات کے دوران بھی امتحانی شیڈول برقرار رکھا گیا، جس کے باعث طلبہ کو شدید گرمی میں اسکول آنے پر مجبور ہونا پڑا۔ والدین کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں گرمی کی شدت کے باعث تعلیمی ادارے بند کیے جا چکے ہیں، ایسے میں امتحانات کا انعقاد طلبہ کی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
کئی والدین نے شکایت کی کہ طلبہ کے پاس امتحانات میں شرکت کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں تھا کیونکہ غیر حاضری کی صورت میں نتائج اور تعلیمی عمل متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔ بعض والدین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ امتحانات کو مؤخر یا آن لائن کیوں نہیں کیا گیا۔
یہ معاملہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی زیرِ بحث آ گیا جہاں صارفین نے تعلیمی اداروں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ کئی افراد نے مطالبہ کیا کہ تعلیمی حکام گرمی کی شدت اور تعطیلات کے دوران امتحانات سے متعلق واضح پالیسی جاری کریں۔
طلبہ نے بھی شدید گرمی، سفری مشکلات اور دن کے اوقات میں نقل و حرکت میں دشواریوں کی شکایت کی۔ والدین نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ امتحانی شیڈول پر نظرِ ثانی کی جائے اور طلبہ کی حفاظت کو ترجیح دی جائے۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق اگرچہ ادارے تعلیمی کیلنڈر مکمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم شدید موسمی حالات میں طلبہ کی صحت اور حفاظت کو بھی اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔
تاحال اسکول انتظامیہ کی جانب سے ان الزامات پر کوئی تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا، تاہم اس معاملے نے ملک بھر میں شدید گرمی کے دوران تعلیمی سرگرمیوں اور حفاظتی اقدامات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
