واشنگٹن/تہران، 25 مئی 2026 — امریکا اور ایران ایک ایسے منصوبے پر بات چیت کر رہے ہیں جس کے تحت ممکنہ امن معاہدے کے تقریباً 30 دن بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکتا ہے، تاہم اب تک کسی حتمی معاہدے کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔
نکی ایشیا کی رپورٹ، جسے رائٹرز نے بھی رپورٹ کیا، کے مطابق مجوزہ منصوبے میں ایران آبنائے ہرمز سے بحری بارودی سرنگیں صاف کرنا شروع کرے گا اور تمام ممالک کے جہازوں کو محفوظ گزرگاہ دینے کا پابند ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق تہران جہازوں سے وصول کیے جانے والے ٹرانزٹ فیس یا ٹولز بھی ختم کر دے گا۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ خلیج سے نکلنے والا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی بندش یا کشیدگی عالمی تیل قیمتوں، ایل این جی سپلائی، انشورنس لاگت اور شپنگ شیڈولز کو فوری طور پر متاثر کر سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق زیرِ بحث فریم ورک ایک وسیع تر سفارتی کوشش کا حصہ ہے۔ ایک الگ مجوزہ انتظام کے تحت امریکا اور ایران کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کو بغیر ٹولز کھولنے، ایران کو تیل کی فروخت دوبارہ شروع کرنے کی اجازت، اور تہران کے جوہری پروگرام پر مزید مذاکرات شامل ہو سکتے ہیں۔
تاہم معاملہ ابھی حساس مرحلے میں ہے۔ رپورٹس میں شامل حکام نے خبردار کیا ہے کہ معاہدہ دستخط سے پہلے بھی ناکام ہو سکتا ہے۔ ایرانی ذرائع نے بعض دعوؤں، خاص طور پر افزودہ یورینیم سے متعلق مبینہ رعایتوں، پر اعتراض بھی کیا ہے۔
امریکا کے لیے آبنائے ہرمز کا کھلنا ایک اہم سفارتی اور معاشی کامیابی ہو سکتی ہے، مگر واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام پر واضح یقین دہانیاں بھی چاہتا ہے۔ دوسری جانب ایران کے لیے یہ ممکنہ معاہدہ اقتصادی دباؤ کم کرنے کا راستہ بن سکتا ہے، خاص طور پر اگر اس کے ساتھ پابندیوں میں نرمی یا تیل برآمدات کے لیے رعایتیں شامل ہوں۔
مجوزہ منصوبہ کاغذ پر سادہ دکھائی دیتا ہے: ایران سمندری راستہ کھولے، بارودی سرنگیں صاف کرے اور جہازوں کو محفوظ گزرگاہ دے؛ بدلے میں امریکا ایرانی بندرگاہوں پر دباؤ کم کرے اور پابندیوں سے متعلق نرمی پر بات کرے۔ لیکن عملی سطح پر معاملہ اتنا آسان نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان گہرا ہے، اور کسی بھی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے سمندر میں نگرانی، جہازوں کے تحفظ کی ضمانت اور سیاسی حمایت ضروری ہوگی۔
عالمی منڈیوں نے اس پیش رفت کو محتاط امید کے طور پر لیا ہے۔ تیل قیمتوں میں نرمی دیکھی گئی، جبکہ سرمایہ کار اس امکان کو دیکھ رہے ہیں کہ اگر آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل گئی تو توانائی سپلائی پر دباؤ کم ہو سکتا ہے۔
فی الحال یہ ایک ممکنہ پیش رفت ہے، حتمی بریک تھرو نہیں۔ جب تک جہاز آزادانہ طور پر آبنائے ہرمز سے گزرنا شروع نہیں کرتے، عالمی تیل منڈی میں خطرے کا عنصر مکمل طور پر ختم ہونے کا امکان کم ہے۔
