گلگت: گلگت بلتستان حکام نے جمعہ کے روز پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر اور پارٹی کے مزید چھ رہنماؤں کو خطے سے نکال دیا۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی 7 جون کو ہونے والے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل انتخابی مہم کے دوران ضابطۂ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی پر کی گئی۔
پولیس حکام نے بتایا کہ اکبر اور ان کے ساتھیوں کو گلگت بلتستان سے نکالنے سے پہلے ہنزل کے علاقے سے حراست میں لیا گیا۔ حراست میں لیے گئے افراد میں محبوب شاہ، سلیم الرحمٰن، ڈاکٹر امجد علی خان، محمد نعیم خان، ضیاء الدین اور ارشد میر شامل تھے۔
گلگت بلتستان کے وزیر داخلہ ساجد علی بیگ نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے این او سی حاصل کیے بغیر جگلوٹ میں ریلی سے خطاب کیا اور گلگت میں عوامی اجتماع منعقد کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ انتخابی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔
تاہم پی ٹی آئی نے اس اقدام کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ پارٹی نے حراست اور بے دخلی کو “قبل از انتخابات دھاندلی” اور جمہوری انتخابی مہم پر حملہ قرار دیا، ساتھ ہی تمام جماعتوں کے لیے برابر مواقع فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
اس واقعے نے گلگت بلتستان کے پہلے ہی گرم انتخابی ماحول میں مزید کشیدگی پیدا کر دی ہے، جہاں سیاسی جماعتیں 7 جون کے پولنگ ڈے سے پہلے ووٹرز کو متحرک کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہیں۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کی مہم پر پابندیاں انتخابی عمل کی ساکھ کو نقصان پہنچائیں گی، جبکہ علاقائی حکومت کا مؤقف ہے کہ قانون تمام امیدواروں پر یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
