بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے تشویش میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب یونیورسٹی آف گوادر کے وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر سید منظور احمد، ایک یونیورسٹی ملازم اور ان کے ڈرائیور کو مسلح افراد نے مبینہ طور پر اغوا کر لیا۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب چاروں افراد گوادر سے کوئٹہ جا رہے تھے اور مستونگ کے خض کوچہ (خد کوچہ) علاقے کے قریب ان سے رابطہ منقطع ہو گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق مسلح افراد نے قومی شاہراہ این-25 پر گاڑی کو روک کر یونیورسٹی حکام اور ان کے ساتھیوں کو اپنے ساتھ لے گئے۔ واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ، پولیس اور سکیورٹی اداروں نے سرچ آپریشن شروع کیا جبکہ مختلف مقامات پر ناکہ بندیاں بھی قائم کی گئیں۔
واقعے کے بعد بلوچستان بھر کی جامعات میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ اساتذہ تنظیموں اور تعلیمی حلقوں نے یونیورسٹی حکام کی بازیابی کے لیے احتجاجی مظاہروں اور بلیک ڈے کا اعلان کیا، جبکہ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ مغویوں کی فوری اور محفوظ بازیابی یقینی بنائی جائے۔
بعد ازاں تقریباً دس روز بعد خوش آئند پیش رفت سامنے آئی جب بلوچستان حکومت کے حکام نے تصدیق کی کہ وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر سید منظور احمد، یونیورسٹی ملازم اور ڈرائیور بحفاظت اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے ہیں۔ حکام کے مطابق انہیں مستونگ کے علاقے سے بازیاب یا رہا کیا گیا، تاہم واقعے کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں لائی گئیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بلوچستان میں تعلیمی اداروں اور سول شخصیات کے تحفظ کے حوالے سے موجود خدشات کو اجاگر کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے واقعات نہ صرف تعلیمی سرگرمیوں کو متاثر کرتے ہیں بلکہ صوبے میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے ماحول پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
